تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 32
۳۲ کے کوائف پر روشنی پڑتی ہے اس لئے اس کا اُردو ترجمہ فائدہ سے خالی نہیں۔انہوں نے لکھا:۔میرے پیارے آقا سنٹرل لینگوئیج سکول میں ساتی صاحب اور ظفر صاحب سے جہاں وہ سپینش اور خاکسار انگریزی اور فرانسیسی سیکھ رہے ہیں، واقفیت ہوئی۔اس دوستانہ تعارف کے بعد مجھے ان سے گفت گو کرنے کی خواہش پیدا ہوئی جو کہ بہت آسانی سے پوری بھی ہوگئی۔انہوں نے دوسرے روز ہی مجھ سے میرا نام دریافت کیا جو ابا میں نے اپنا نام بتایا۔پھر دوران گفت گو ساتی صاحب نے حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی اور موت کے بارے میں گفتگو شروع کر دی لیکن تنگی وقت اور کلاس کا وقت ہونے کی وجہ سے سلسلہ گفت گو ختم نہ ہو سکا۔مزید گفتگو کے لئے مجھے اُنہوں نے اپنے مکان پر دعوت دی تیں مکان پر گیا اور نا ہی گفتگو ہوئی۔مذہبی گفتگو کا سلسلہ کئی روز بلکہ مہینوں بھاری رہا اور اس اثناء میں میں نئے ٹیچنگیز آف اسلام اور مسیح ہندوستان میں " کا بھی مطالعہ کیا۔پہلے پہل تو میں اسلام سے بہت متنفر تھا کیونکہ میرے رگ و ریشہ میں کیتھولک مذہب سمایا ہوا تھا لیکن روزانہ کی بحث وگفتگو نے آخر مجھ پر اسلام کی صداقت منکشف کر دی۔یکن بے انتہار کر گزار ہوں اس خدا کا جس نے مجھے اسلام کی تعلیم سے واقفیت کی توفیق بخشی اور جس نے حضور کو دنیا کے مختلف اطراف میں مبتلقین بھجوانے کی توفیق عطا فرمائی خصوصیت سے سرزمین سپین میں جہاں اسلام نے کئی صدیوں تک حکومت کی۔میکن نے شرائط بیعت پڑھ لئے ہیں اور میں اقرار کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی مدد سے زندگی بھر ان پر عمل کروں گا اور آپ کے تمام محکموں کو بجالاؤں گا۔آخر میں حضور کی خدمت میں نہایت انکسار سے درخواست کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ مجھے ہر حالت میں ان پر عمل کرنے کی اور فرمانبرداری کی توفیق بخشے اور دن بدن ایمان میں زیادہ سے زیادہ ترقی کروں اور میرا ہردن اطاعت و فرمانبرداری میں بسر ہو اور خدا تعالیٰ مجھے نور روحانیت عطا فرما دے جس کے ذریعہ اور لوگوں کو منور کر سکوں جو ابھی تک ایمان نہیں لائے۔حضور کا فرمانبردار خادم خیلی اردویو سینکٹر اس " له 11488 الفضل ۳ و فار جولائی