تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 31 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 31

WI میں اسلام نے اس ملک کے اصل باشندوں دو ہسپانوی باشندوں کا قبول اسلام پر براہ راست نفود و اثر پیدا کرنا شروع کر دیا چنانچہ اس سال کے وسط میں دو ہسپانوی جوانوں پر بھی (جن میں سے ایک کا نام مسٹر مینگل اور دوسرے کا مسٹر فلپی ارویو مینٹری تھا، صداقت، اسلام منکشف ہوگئی اور وہ بیعت کر کے داخیل احمدیت ہو گئے۔حضرت مصلح موعود نے ان کا اسلامی نام بالترتیب اجمیل احمد اور فلاح الدین تجویز فرمایا یہ مسٹر فلیپی ارویو نے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں جو مکتوب لکھا وہ چونکہ اس لحاظ سے خاص اہمیت رکھتا ہے کہ اس سے احمدیہ سلم سپین مشن کے ابتدائی حالات اور ہسپانیہ کے سب سے پہلے نو مسلموں بقیه حاشیہ صفحہ گزشتہ : کو روس سے بھاگ کر جان بچانی پڑی اور انتھونیا میں چلے گئے جو آزاد ریاست تھی۔پھر جلد ہی وہاں سے جنوبی امریکہ آگئے اور اس نوجوان نے ارجنٹائن میں تعلیم حاصل کی۔اور وہاں چونکہ ہسپانوی زبان بولی جاتی ہے اور انگریزی تھی۔اس لئے دونوں زبانیں وہاں سیکھیں میں اتھو نیا واپس آیا کیونکہ اس کو اس ملک کے حقوق شہریت حاصل تھے۔انھونیا میں جب روس کا قبضہ جرمنی سے معاہدہ ہو جانے پر ہو گیا تو اس کا وہاں ٹھہرنا ناممکن ہو گیا۔چنانچہ پینش زبان جاننے کی وجہ سے سپینش محکمہ اطلاعات میں جرمنی میں ملازم ہو گیا۔بعد میں ایک کر نیل کی مدد سے 1997 میں سپین آگیا ہم میں روز ر لنڈن سے روانہ ہوئے تو وکٹوریہ سٹیشن پر خاکسار نے نہایت الحاج سے دعا کی کہ اسے مولا کریم اپنے گتا ہوں اور کمزوریوں کا مجھے اعتراف ہے مگر ان کو نظر انداز کرتے ہوئے سیدنا حضرت الصلح الموعود کی قویت قدسیہ کے طفیل ہی ایسا نشان دکھلا کہ يَنصُرُكَ رِجَالُ نُونِي إِلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ مَا نشان پورا ہو۔پہنا نچہ تھا امی ایک ایجنسی سے اس نوجوان کو ہمارے ساتھ کہ دیا کہ ہمیں کوئی نہایت سستی سی رہائش کی جگہ تلاش کر دے۔یہ ملک بیکاری کے لحاظ سے بالکل ہندوستان کے مشاہد ہے۔باوجود اس کے که نوجوان ہر لحاظ سے قابل ہے۔ٹائپ ، شارٹ ہینڈ اور اس کے علاوہ پانچ کچھ زبانیں جانتا ہے نیکن عرصہ سے باوجود انتہائی کوشش کے بیکار تھا اور اسے اسی روز ہی ملازمت اس ایجنسی میں بطور تر جانا ملی تھی اور اس کا پہلا کام ہمارے ساتھ ہی شروع ہوا۔یہ بعض مشکلات میں تھا۔جس ہمدردی اور رنسن سلوک سے بوجہ اجنبی ہونے کے یہ ہمارے ساتھ پیش آیا اس سے متاثر ہو کر نا کسار نے فوراً حضرت اقدس المصلح الموعود اطال الله قاره و اطلع شموس طالعہ کی خدمت میں خصوصیت سے دردمندانہ طور پر دعا کے لئے درخواست کی۔اور اللہ تعالٰی کے فضل سے اس کی مشکلات دور ہوگئیں اور حضور کی دعاؤں کی قبولیت کو دیکھ کر اس نے اسلام قبول کر لیا، الحمد لله على ذالك " الفضل ۲۰ تبوک / ستمبر ۱۳۲۵ م ) عاشی تعلقہ صفحہ ہذا : له SR MIGUEL MIRANDA : + SR JESUS FELIPE ARROYO L + مجھے الفضل سور و فائر جولائی مٹ