تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 446 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 446

۴۴۱ آنے والے واقعات بیان کر دے۔انگریزوں کی حکومت کے زمانہ میں بھلا قا دیا یہ پر حملہ کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا تھا۔پھر قادیان کو چھوڑنا کیس کے خیال میں آسکتا تھا۔کون خیال کر سکتا تھا کہ مسلمانوں پر ایک بہت بڑی تباہی آنے والی ہے اتنی بڑی کہ وہ اپنے شہروں اور گھروں سے نکل کر آسمان کے نیچے ڈیرے ڈالیں گے تو وہاں بھی وہ دشمن کے حملہ سے محفوظ نہیں ہوں گے مگر یہ تمام واقعات رونما ہوئے اور پھراللہ تعالیٰ نے اس رؤیا کے مطابق ہمیں ایک نیا مرکز بھی دے دیا۔یہاں جس قسم کی مخالفت تھی اُس کے لحاظ سے اس مرکز کا ملنا بھی اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کی نصرت کا ایک گھلا ثبوت ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایسا تعترف کیا کہ مخالفین کے اخباروں نے پیچھے شور مچایا اور ہمارا سودا پہلے لکھے ہو چکا تھا۔پھر اس قدر ٹھوٹ سے کام یا گیا کہ اس زمین کے متعلق انہوں نے لکھا کہ حکومت کو پندرہ سور و پیہ فی ایکڑ ائیل رہا تھا اور کئی مسلمان انجمنیں اُسے یہ روپیہ پیش کر رہی تھیں مگر حکومت نے پیڑ کڑہ برائے نام قیمت پر احمدیوں کو دے دیا۔گویا ان کے حساب سے پندرہ لاکھ روپیہ اس ٹکڑے کا حکومت کو ہل رہا تھا مگر حکومت نے اس کی پروانہ کی جب مجھے اس کا علم ہوا تو میں نے فوراً اعلان کر دیا کہ پاکستان کا اتنا نقصان ہم برداشت نہیں کر سکتے اگر اتنا روپیہ دے کر کوئی شخص یہ زمین خرید سکتا ہے تو وہ اب بھی ہم سے یہ زمین اتنی قیمت پر لے لے تو یہ سارے کا سارا روپیہ حکومت پاکستان کو دے دیں گے مگر حقیقت یہ ہے کہ پندرہ سو روپیہ فی ایکٹر تو کجا پندرہ روپیہ فی ایکڑ بھی کوئی شخص دینے کے لئے تیار نہیں تھا۔گورنمنٹ نے خود اپنے گزٹ ہیں اس کے متعلق متواتر اعلان کرایا مگر اُسے پانچ روپے فی ایکٹر کی بھی کسی نے پیشکش نہ کی۔غرض اللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت ہم قادیان سے باہر آئے ہیں اور اسی کے منشاء کے ماتحت ہم یہاں ایک نیا مرکز بسانا چاہتے ہیں۔ہر چیز میں روکیں حائل ہو سکتی ہیں اس لحاظ سے ممکن ہے ہمارے اس ارادہ میں بھی کوئی روک حائل ہو جائے لیکن ہمارا ارادہ اور ہماری نیت یہی ہے کہ ہم پھر ایک مرکز بنا کر اسلام کے غلبہ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی اشاعت کی کوشش کریں اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس کام میں ہمارا حامی ومددگار ہو ہم لئے اس وادی غیر ذی زرع کو جس میں فیصل اور سبزیاں نہیں ہوتیں اس لئے چنا ہے کہ ہم یہاں بسیں اور اللہ تعالیٰ کے نام کو بلند کریں مگر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ساری فصلیں اور سبزیاں اور ثمرات خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔پس اول تو ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری نیتوں کو صاف کرے اور ہمارے اراوں کو پاک کرے اور پھر ہم اسی سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ مکہ مکہ کے خلیل کے طور پر اور مکہ مکرمہ کے