تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 441 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 441

۴۳۶ شامل ہو جائیں گے اتنی جایدی ہی اسلام دنیا میں غالب آجائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ اس وقت جس قدر تحریکیں دُنیا میں جاری ہیں وہ ساری کی ساری دنیوی ہیں صرف ایک تحریک مسلمانوں کی نامہبی تحریک ہے اور وہ احمدیت ہے۔پاکستان خواہ کتنا بھی مضبوط ہو جائے کیا عراقی کہیں گے کہ ہم پاکستانی ہیں۔کیا شامی کہیں گے کہ ہم پاکستانی ہیں۔کیا لبنانی کہیں گے کہ ہم پاکستانی ہیں۔کیا مجازی کہیں گے کہ ہم پاکستانی ہیں۔شامی تو اس بات کے لئے بھی تیار نہیں کہ وہ لبنانی یا تجازی کالا آیا حالانکہ وہ ان کے ہم قوم ہیں۔پھر لبنانی اور حجازی اور عراقی اور شامی پاکستانی کہلا نا کب برداشت کر سکتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ تمام مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ قولا تو اتحاد کر سکتے ہیں مگر وہ ایک پارٹی اور ایک جماعت نہیں کہلا سکتے۔صرف ایک تحریک احمدیت ہی ایسی ہے جس میں سارے کے سارے شامل ہو سکتے ہیں عراقی بھی اس میں شامل ہو کر کہہ سکتا ہے کہ میں احمدی ہوں۔عربی بھی اس میں شامل ہو کہ کہہ سکتا ہے کہ یکی احمدی ہوں۔مجازی بھی اس میں شامل ہو کہ کہ سکتا ہے کہ ہیں احمدی ہوں اور عملاً ایسا ہو رہا ہے۔و ۶ فی ہونے کے باوجود اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہم احمدیت میں شامل ہیں جس کا مرکز پاکستان میں ہے اور اس طرح وہ ایک رنگ میں پاکستان کی مانتی قبول کرتے ہیں مگر یہ ماتحتی احمد بیت میں شامل ہو کر ہی کی جا سکتی ہے اس کے بغیر نہیں چنانچہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ وہ عربی جو اس غرور میں رہتا ہے کہ میں اس ملک کا رہنے والا ہوں جس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے میرا مقا بار کوئی آؤ شخص کہاں کر سکتا ہے وہ احمدیت میں شامل ہوکر یہ عظیم ہندو پاکستان کا بھی ادب و احترام کرتاہے اور یہاں مقدس مقامات کی زیارتوں کے لئے بھی آتا ہے۔غرض ایک ہی چیز ہے جس کے ذریعہ دنیائے اسلام میر متحد ہو سکتی ہے اور جس کے ذریعہ دوسری دنیا پر کامیابی اور فتح حاصل ہو سکتی ہے اور وہ احمدیت ہے۔آنا وعہ ہے کہ مسلمامی دنیا میں ہر جگہ ذلیل ہو رہے ہیں اور ہر جگہ تباہی اور بربادی کا شکار ہو رہے ہیں۔اس سے زیادہ تباہی اور کیا ہوگی کہ مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کی پچاس ہزا عورتیں اب تک سکھوں اور ہندوؤں کے قبضہ میں ہیں کیا یہ معمولی ذقت ہے کہ مسلمانوں کی پچاس ہزار عورتوں کو وہ پکڑ کر لے گئے اور ان سے بدکاریاں کر رہے ہیں۔کیا یہ معمولی عذاب ہے کہ پانچ چھ لاکھ مسلمان دنوں میں مارا گیا۔اور پھر فلسطین میں جوکچھ ہورہا ہے کیا و مسلمانوں کو نظر نہیں آرہا۔ابھی حیدر آباد میں جو کچھ ہوا ہے اس سے کس طرح مسلمانوں کو صدمہ ہوا ہے اور وہ اپنے دلوں میں کیسی ذلت اور شرمندگی محسوس کر رہے ہیں مگر یہ ساری مصیبتیں اور بلائیں ایک لمبی زنجیر