تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 433 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 433

کے ہمراہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور بعض دوسرے بزرگان سلسلہ بھی تھے۔لے حضرت مصلح موعود نے اس یادگار سفر کے لئے لائل پور کا راستہ اختیار فرمایا کیونکہ شیخوپورہ کا کچھ حصہ زیر آب تھا۔حضور کی آمد سے قبل چنیوٹ، احمد نگر اور لائیاں کے علاوہ سرگودھا ، لاہور، قصور، سیالکوٹ لائل پور، گجرات، گوجرانوالہ ، جہلم اور بعض دوسرے اضلاع کے احمدی دوست بھی اس بابرکت تقریب میں شمولیت کے لئے پہنچے ہوئے تھے۔نماز ظرہ قریباً ڈیڑھ بجے شروع ہوئی جس میں تقریباً اڑھائی سو احجاب شریک تھے۔یہ پہلی باجماعت نماز تھی جو حضور کی اقتداء میں اس سر زمین پر پڑھی گئی۔اس کے بعد موجود اصحاب کی فہرست تیار کی گئی ہیے نماز ظہر سے فراغت کے بعد ربوہ کی افتتاحی تقریب حضرت مصلح موعود کا بعیت افروز خطاب کا دوسرا ہم پروگرام حضرت مصلح موعود کے خطاب سے شروع ہوا حضور نے تشہد و تعوذ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔که حضرت صاجزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی طبع مبارک ان دنوں سخت علیل تھی اس لئے موقعہ افتتاح پر تشریف نہ لے جاسکے چنانچہ مولانا جلال الدین صاحب شمس ناظر اعلیٰ نے آپ کی خدمت میں یہ اطلاع دی کہ کل حضرت صاحب نئے مرکز بین دعا کرنے کے لئے تشریف لے جائیں گے امید ہے کہ آپ بھی جاسکیں گے آپ کی کار بھی ساتھ لے بہانے کی ضرورت ہے امید ہے کہ آپ اس کے لئے اجازت فرما دیں گے یہ اس پر آپ نے اپنے قلم سے تحریر فرمایا : السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔میرے لئے تو غسل خانہ تک جانا مشکل ہوتا ہے افسوس ہے کہ اس تاریخی موقعہ کی برکتوں سے محروم رہوں گا نیز شرمندہ ہوں کہ کا بھی خراب ہے۔(و تخط) ناصر احمد " کے حضور نے اس موقعہ پر جس جگہ ظہر وعصر کی نمازیں پڑھائی تھیں وہ موجودہ تفضل عمر مہسپتال کے قطعہ میں ہے اور آپ اس پر ایک نہایت خوبصورت مسجد تعمیر ہو چکی ہے جو یادگاری مسجد کہلاتی ہے صوفی خدا بخش صاحب عید زیر وی (سابق در پیشین قادیان) کے دل میں یہاں ایک منتقل چبوترہ بنائے بجانے کا خیال آیا۔قریشی عبدالرشید صاحب اسٹنٹ سیکرٹری آبادی نے حضرت مصلح موعود کی خدمت ہیں لکھا کہ حضور اجازت دیں تو اس جگہ قبلہ رخ کر کے ایک نیوترہ بنوا دیا جائے جو ہسپتال کے عملہ کے بہ لئے بجائے نماز کا کام دے حضور نے اس درخواست پر تحریر فرمایا کہ اچھی بات ہے ، چنانچہ ۲۳ تبلیغ فروری ۳۲ کو ۱۹۵۳ء محترم صوفی صاحب کی معیت میں ملک رسول بخش صاحب اور سیر نے اس تاریخی مقام کی پیمائش کی معلوم ہوا اس کا رقیب ۳۰ ۳۰ فٹ ہے۔کے مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل کی تیار شدہ یہ فہرست جو ۶۱۸ افراد پرمشتمل تھی ضمیمہ سے منسلک ہے ؟