تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 423
۴۲۰ مرکز پاکستان میں جگہ حاصل کرنے کے لئے اس خطبہ کے بعد میں جماعت نے نے مرکز میں جگہ پانے کی سعادت حاصل کرنے کے لئے جس مخلصین جماعت کی طرف سے مثالی جوش و خروش جوش و خروش کا ثبوت دیادہ اپنی مثال آپ تھا حضرت مصلح موعود نے جب تک اراضی مرکز کے لئے یہ اعلان عام نہیں فرمایا تھا تاں سوکنال زمین فروخت ہو چکی تھی۔اس کے بعد جو ہم احمدیوں تک اپنے محبوب آقا کی آواز پہنچی وہ دیوانہ وار لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھے اور ۱۵- خضار / اکتوبہ کی آخری مقررہ تاریخ تک پانچ سو کنال کی بجائے ایک ہزار کنال کی قیمت داخل خزانه گرادی مطالبات کی اس غیر معمولی کثریت پر کی پٹی آبادی کو حضرت مصلح موعود کی منظوری ے اعلان کرنا پڑا کہ روپے کنال کے مجوزہ نرخ پر پانچ سو کنال کی بجائے آٹھ سوکنال تک زمین ہیم کی جائے گی نیز فیصلہ کیا کہ مزید تین سو کنال بھی دی جائے مگر اس کی قیمت پہلے نرخ کے مقابل ہو گئی ہوگی اور جن دوستوں کی قوم اراضی آئے سوکنال کے پورا ہو جانے کے بعد پہنچی ہیں وہ دگنی قیمت پر زمین لینے کے مجاز ہیں اور ایسے خریداروں کا حق پہنا رہ دن تک دوسرے درخواست کنندوں سے مقدم قرار دیا گیا۔اس اعلان پر جو سنتے بھی گزرتے نہیں پائے تھے کہ اسسٹنٹ سیکرٹری کمیٹی آبادی دقریشی عبد الرشید صاحب نے بذریعہ الفضل اعلان کیا کہ جو گنه نرخ پر تین سو کنال فروخت کرنے کا جو اعلان کیا گیا تھا وہ تین صد کنال ختم ہو چکے ہیں اس لئے احباب مزید کوئی رقم اس مورخ پر زمین خریدنے کے لئے ارسال نہ کریں۔علاوہ ازیں یہ فیصلہ کیا گیا کہ کسی صاحب کو چار کنال سے زائد زمین نہ دی بجائے سوائے اس کے کہ بچوں کی علیحدہ رہائش کے لئے درکار ہو۔ہے ماه اشیاء اکتوبر کے آخر تک ۵۳۹ سابقون نے سابقون کی فہرست کی اشاعت مادی فردی زرعی میں رہائش کےلئے اپنی قوم پیش کیں جن کی وادی لئےاپنی میں فہرست الفضل کی دو اشاعتوں (۲۶) انداد و از نبوت میں بطور ضمیمہ شائع کر دی گئی۔اس فہرست میں پہلا نام حضرت مصلح موعود کا اور دوسرا حضرت مولانا غلام رسول صاحبت را جیکی کا تھا اور بقیہ ناموں میں سلسلہ احمدیہ کے مزد درجہ ذیل ممتاز بزرگ صحار بھی شامل فہرست تھے :۔حضرت مولوی فضل الدین صاحبہ (2) حضرت ڈاکٹر سید غلام غوث صاحب ( ع ) لے الفصل 19 انماء / اکتوبر ها ما ۲۱۹۴۸ ܀ الفضل ۳۱ را خاء / اکتوبر ها ۶۱۹۴۸