تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 422 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 422

۴۱۹ A ہے اس لئے یہ اخراجات زمین کی قیمت سے ہی نکالے جائیں گے۔صرف چار پانچ سو ایکڑ زمین شہر میں لگ سکے گی باقی زمین ایسی نہیں کہ اس پر مکان بن سکیں۔پس اس زمین میں سے یہ اخراجات نکالے جانے ضروری ہیں۔- دکانوں کی عام اجازت نہ ہوگی بلکہ ضرورت کے مطابق نائیوں، دھوبیوں، موچیوں وغیرہ کی دکانیں ہوں گی اور گنجائش کے مطابق دکانیں کھولنے دی جائیں گی۔بڑے کارخانے کھولنے کی کسی شخص واحمد کو اجازت نہیں دی جائے گی بلکہ جو بھی کارخانے کھولے جائیں گے ان میں سب شہریوں کا حصہ ہو گیا۔یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ کچھ زمین اُن لوگوں کو دی جائے گی جو غرباء تھے اور قادیان میں ان کے مکانات تھے۔یہ جگہ مفت دی جائے گی۔۔دکانات بنانے میں ایسا کام جس میں نئی مہارت کی ضرورت نہ ہو باہمی تعاون سے کیا جائے گا اور اپنے ہاتھوں سے کیا جائے گا۔۱۲ - جو قواعد اس بارہ میں حکومت یا سلسلہ کی طرف سے جاری ہوں ان کی پابندی زمین لینے والوں کے لئے ضروری ہوگی۔" آخر میں فرمایا :- پس ایسے دوست جو اس میں حصہ لینا چاہتے ہیں اور اس لئے مرکز میں مکانات بنانا چاہتے ہیں انہیں بچاہئیے کہ ایک مہینہ کے اندر اندر سو روپیہ فی کنال کے حساب سے ہدیہ مالکانہ پچاس روپے اور ابتدائی انتظامات کے لئے پچاس روپے قیمت خزانہ میں جمع کرا دیں تا پہلے گروپ میں وہ شامل کر لئے بجائیں۔احمدیت نے بہر حال پڑھنا ہے یہاں کی زمینوں کا بھی وہی حال ہو گا جو قادیان کی زمینوں کا ہوا یہ جگہ پاکستان کا مرکز رہے گی اور قریب کے مرکزوں سے زیادہ تعلق ہوتا ہے پس جو شخص زمین لینا چا ہے انہیں جلدی کرنی چاہئیے" کے 7-0 له الفضل ٢٨ تبوك استمبر ۱۳۲۷۵ م ١٦ نے حضور انور کا متذکرۃ الصدر خطبه ۱۲۸ تبوک مر تمبر م کے افضل میں شائع ہوا مگر سیکورٹی تعمیر کیٹی کی طرف سے اس کی روشنی میں تیسرے روز ہی ایک مفضل اعطان چھپ گیا جس میں حضور کی بیان فرمودہ ستر کا شرائط کی تفصیل درج تھی (الفضل (۱۲) تبوک ه۱۳۳۲۷ ) :