تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 404 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 404

3 ۰۱ میں اختلاف و انشقاق بڑھانے والا ہے۔اس شخص نے مجھ سے کہا کہ قادیانی تو مسلمان ہی نہیں اور ہندوستان کے تمام فرقوں کے علماء انہیں کا فر قرار دے چکے ہیں۔میں نے اس سے کہا کہ مہند وستانی علماء کے اقوال قرآن مجید کی اس آیت کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے لا تقولوا يمن القى إلَيْكُمُ السّلامَ لَسْتَ مؤمنا کہ جو شخص تمہیں السلام علیکم کہے اس کو کا فرمت کہو۔میرا اتنا کہنا تھا کہ وہ شخص غضب ناک ہو گیا اور کہنے لگا کہ معلوم ہوتا ہے کہ قادیانی پراپیگنڈے نے تمہارے دل پر بھی اثر کر دیا ہے اور تو قادیانی بن گیا ہے اور اسلام سے خارج ہو گیا ہے اسی لئے تو ان کی طرف سے جواب دے رہا ہے۔یکس نے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ جناب یقین جانیں کہ میں اتنے لمبے عرصہ سے مسلمان کہلانے اور مسلمانوں میں رہنے کے باوجود یہ دعوی کرنے کی طاقت نہیں رکھتا کہ میں صحیح معنوں میں مسلمان ہوں تو کیا قادیانیت کے متعلق چند کتب کا مطالعہ مجھے قادیانی بنا سکتا ہے ؟ میں جن دنوں اس سفارت خانہ میں جایا کرتا تھا مجھے معلوم ہوا کہ میں اکیلا ہی اس کام کے لئے مقرر نہیں کیا جا رہا بلکہ کچھ اور لوگوں کو بھی اس میں شریک کیا جارہا ہے۔پھر مجھے یہ بھی پتہ لگا کہ اس کام کے کرنے سے صرف یکی نے ہی انکار نہیں کیا بلکہ بعض دوسرے لوگوں نے بھی استعمار کا آلہ کار بننے سے انکار کر دیا تھا۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب شہر میں ارض مقدسہ کا ایک حصہ کاٹ کر صیہونی حکومت کے سپرد کر دیا گیا تھا اور اسرائیلی سلطنت قائم ہوئی تھی۔اور میرا خیال ہے مذکورہ بالا سفارت خانہ کا پیر اقدام در حقیقت ان دو ٹرکیٹوں کا عملی جواب تھا جو تقسیم فلسطین کے موقع پر اسی سال جماعتِ احمدیہ نے شائع کئے تھے۔ایک ٹریکٹ کا عنوان " هئية الامم المتحدة وقدار تقينيم فلسطين" تھا جس میں مغربی استعماری طاقتوں اور صیہونیوں کی ان سازشوں کا انکشاف کیا گیا تھا جن میں فلسطینی بندرگاہوں کے یہودیوں کو سپرد کر دینے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔دوسرا ٹریکٹ الكُفْرُمِيَّةُ وَاحِدَةٌ » کے عنوان سے شائع ہوا تھا جس میں مسلمانوں کو کامل اتحاد اور اتفاق رکھنے کی ترغیب دی گئی تھی اور صیہونیوں کے مقابلہ اور ارض مقدسہ کو ان سے پاک کرنے کے لئے اموال جمع کرنے کی ترغیب دی گئی تھی۔یہ وہ واقعہ ہے جس کا مجھے ان دنوں ذاتی طور پر علم ہوا تھا اور مجھے پورا یقین ہے کہ جب تک