تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 403 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 403

۴۰۰ کی جائے اور بعض فرقے احمدیوں کی تکفیر اور ان پر نکتہ چینی کرنے کے لئے کھڑے ہو جائیں یہاں تک کہ اس طریق سے حکومت پاکستان اور بعض ان عرب حکومتوں میں بھی اختلاف پیدا ہو جائے جن کے اخبارات پاکستان کے وزیر خارجہ ظفر اللہ خاں احمدی کو کافر قرار دیتے ہیں۔غالباً بہت سے پڑھنے والوں کو یاد ہو گا کہ کچھ عرصہ قبل پاکستان کی بعض جماعتوں نے اس امر کی کوشش کی تھی کہ مسلمان حکومتوں کا ایک اسلامی بلاک قائم کیا جائے تاکہ ان کی ہستی اور ان کی آزا دہی قائم رہے اور ان کی بیرونی سیاست ایک پہنچ پر پہلے مگر یہ کوششیں بعض دوسری مسلمان جماعتوں کی مخالفت کی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکیں۔اس تجویہ کی ناکامی کے اسباب میں در حقیقت بڑا سبب وہ مسئلہ تکفیر ہے جو بعض انتہاء پسند مولویوں کے ہاتھ میں استعماری طاقتوں نے دیا تھا تا کہ وہ اس تجویز کے محرکین کو قادیانی اور اسلام سے خارج کہہ کر اس کو ناکام بنانے کی کوشش کریں۔شاید کسی شخص کو یہ خیال پیدا ہو کہ میرا اس معاملے میں استعماری طاقتوں کو دخل انداز قرار دینا صرف نکن اور گمان ہے مگر میں قارئین کرام کو پورے یقین کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے اس امر کی پوری پوری اطلاع ہے کہ در حقیقت یہ سب کا رروائی استعماری طاقتیں کروا رہی ہیں کیونکہ فلسطین کی گزشتہ جنگ کے ایام میں شام میں استعماری طاقتوں نے خود مجھ کو اس معاملے میں آلہ کار بنانے کی کوشش کی تھی۔ان دنوں میں ایک ظرافتی پرچے کا ایڈیٹر تھا اور اس کا انداز حکومت کے خلاف نکتہ چینی کا انداز تھا۔چنانچہ انہی دنوں مجھے ایک غیر ملکی حکومت کے ذمہ دار نمائندہ مقیم بغداد نے ملاقات کے لئے بلایا اور کچھ چاپلوسی اور میرے انداز نکتہ چینی کی تعریف کرنے کے بعد مجھے کہا کہ آپ اپنے اخبار میں قادیانی جماعت کے خلاف زیادہ سے زیادہ دل آزار طریق پر نکتہ چینی جاری مہریں کیونکہ یہ جماعت دین سے خارج ہے۔یکن نے جواب میں عرض کیا کہ مجھے تو اس جماعت اور اس کے عقائد کا کچھ پتہ نہیں میں ان پر کس طرح نکتہ چینی کر سکتا ہوں؟ اس نمائندہ نے مجھے بعض ایسی کتابیں دیں جن میں قادیانی عقائد پر بحث کی گئی تھی اور اپنے مجھے بعض مضامین بھی دیئے تا وہ مجھے اپنے مقالات کے لکھنے ہیں فائدہ دیں۔چنانچہ ان کتابوں کے مطالعہ سے مجھے اس جماعت کے بعض عقائد کا علم ہوا لیکن میں نے ان میں کوئی ایسی بات نہ دیکھی جس سے میرے عقیدہ کے مطابق انہیں کا فر قرار دیا جا سکے۔اس استعماری نمائندہ سے چند ملاقاتوں کے بعد میں نے اس کام کے کرنے سے معذرت پیش کر دی اور کہا کہ میرے عقیدہ کے مطابق یہ طریق اس وقت اسلامی فرقوں