تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 392
۳۸۹ فلسطین میں آباد ہوں گے لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ وہ ہمیشہ کے لئے آباد ہوں گے فلسطین پر ہمیشہ کی حکومت تو عِبَادُ اللهِ الصَّالِحُونَ کے لئے مقرر کی گئی ہے۔پس اگر ہم تقولی سے کام لیں تو الہ تعالیٰ کی پہلی پیش گوئی اس رنگ میں پوری ہوسکتی ہے کہ یہود نے آزاد حکومت کا وہاں اعلان کر دیا ہے لیکن اگر ہم نے تقولٰی سے کام نہ لیا توپھر و پیش گوئی لیے وقت تک پوری ہوتی چلی جائے گی اور اسلام کے لئے ایک نہایت خطرناک دھکا ثابت ہو گی ہیں ہمیں چاہیئے اپنے عمل سے، اپنی قربانیوں سے اپنے اتحاد سے، اپنی دعاؤں سے، اپنی گریہ وزاری سے اس پیش گوئی کا عرصہ تنگ سے تنگ کر دیں اور فلسطین پر دوبارہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت کے زمانہ کو قریب سے قریب تر کر دیں اور میں کبھتا ہوں اگر ہم ایسا کہ دیں تو اسلام کے خلاف جو کہو پھیل رہی ہے وہ اُلٹ پڑے گی۔عیسائیت کمزوری و انحطاط کی طرف مائل ہو جائے گی اور مسلمان پھر ایک دفعہ بلندی اور رفعت کی طرف قدم اُٹھا نے لگ جائیں گے۔شاید یہ قربانی مسلمانوں کے دل کو بھی صاف کر دے اور ان کے دل بھی دین کی طرف مائل ہو جائیں۔پھر دنیا کی محبت ان کے دلوں سے سرد ہو جائے۔پھر خدا اور اس کے رسول اور ان کے دین کی عزت اور احترام پر وہ آمادہ ہو جائیں اور ان کی بے دینی دین سے اور ان کی بے ایمانی ایمان سے اور ان کی شستی پشتی سے اور ان کی بد عملی سعی پیہم سے بدل جائے۔خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ لے حضرت امیر المومنین المصلح الموعود کے اس انقلاب انگیز مضمون نے شام ، لبنان، اردن اور دوسرے عرب ممالک میں زیر دست تہلکہ مچا و یا شیخ نوراحمد صاحب میر مجاہد بلاد عربیہ نے اس مضمونی کی نہایت وسیع پیمانے پر اشاعت کی اور شام و لبنان کی تین سو مشہور اور ممتاز شخصیتوں کو چین میں بیشتر وزراء، پارلیمنٹ کے ممبر، کالجوں کے پروفیسر، مختلف وکلاء، بیرسٹر اور سیاسی اور مذہبی لیڈر تھے، خاص طور پر بذریعہ ڈاک بھجوایا اور مجموعی طور پر ہر جگہ اس مضمون کا نہایت ہی اچھا اثر ہوا یہ میں نہیں شام ریڈیو نے خاص اہتمام سے اس کا خلاصہ نشر کر کے اسے دنیائے عرب کے کونہ کونہ تک پہنچا دیا۔اخبار اليوم " الفباء الكفاح " " الفيحاء" - "الاخبار" "القبس"۔" النصر" " اليقظة " صوت الاحرار " النهضة" اور الاردن“ وغیرہ چوٹی کے عربی اخبارات " الفضل ۲۱ ہجرت رمئی ۱۳۲۷ ص ۲۳ ب له الفضل ، او تبوک استمبر ا صبا کالم کا ه $14