تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 389
۳۸۶ ہوا تھا بگرہ والوں میں ایسی قوت انتظام تھی ہی نہیں یہ مدنیہ سے جلا وطن شدہ یہودی قبائل ہی کا کا رنامہ تھا کہ انہوں نے سارے عرب کو اکٹھا کر کے مدینہ کے سامنے لاڈالا۔خدا نے ان کا بھی منہ کالا کیا مگر یہود نے اپنی طرف سے کوئی کسر باقی نہ رکھی۔رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کے اصل دشمن ہیکہ والے تھے مگر مکہ والوں نے کبھی دھوکہ سے آپ کی جان لینے کی کوشش نہیں کی۔آپ جب طائف گئے اور ملک کے قانون کے مطابق مکہ کے شہری حقوق سے آپ دستبردار ہو گئے مگر پھر آپ کو کوٹ کر مکہ میں آنا پڑا تو اس وقت مکہ کا ایک شدید ترین دشمن آپ کی امداد کے لئے آگے آیا اور مکہ میں اس نے اعلان کر دیا کہ لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شہریت کے حقوق دیتا ہوں اپنے پانچوں بیٹوں سمیت آپ کے ساتھ ساتھ مکہ میں داخل ہوا اور اپنے بیٹوں سے کہا کہ محمد ہمارا دشمن ہی کہی پر آج عرب کی شرافت کا تقاضہ ہے کہ جب وہ ہماری امداد سے شہر میں داخل ہونا چاہتا ہے تو ہم اس کے اس مطالبہ کو پورا کریں ورنہ ہماری عزت باقی نہیں رہے گی۔اور اس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ اگر کوئی دشمن آپ پر حملہ کرنا چاہے تو تم میں سے ہر ایک کو اس سے پہلے مرجانا چاہیئے کہ وہ آپ تک پہنچ سکے۔یہ تقارب کا شریف دشمن۔اس کے مقابلہ میں بد ثبت یہودی جس کو قرآن کریم مسلمان کا سب سے بڑا دشمن قرار دیتا ہے اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے گھر پر بلایا اور مسلح کے دھو کہ میں چنگی کا پاٹ کو ٹھے پر سے پھینک کر آپ کو مارنا چاہا خدا تعالیٰ نے آپ کو اس کے منصوبہ کی خبر دی اور آپ سلامت وہاں سے نکل آئے۔یہودی قوم کی ایک عورت نے آپ کی دعوت کی اور زہر ملا ہوا کھانا آپ کو کھلایا آپ کو خدا تعالیٰ نے اس موقع پر بھی بچا لیا مگر یہودی قوم نے اپنا اندرونہ ظاہر کر دیا۔یہی دشمن ایک مقتدر حکومت کی صورت میں دینہ کے پاس سر اٹھانا چاہتا ہے شاید اس نیت سے کہ اپنے قدم مضبوط کر لینے کے بعد وہ مدینہ کی طرف بڑھے۔جو مسلمان یہ خیال کرتا ہے کہ اس بات کے امکانات بہت کمزور ہیں اس کا دماغ خود کمزور ہے۔اب اس حقیقت کو سمجھتا ہے عرب جانتا ہے کہ اب یہودی عرب میں سے وریوں کو نکالنے کی منسکہ میں ہیں اس لئے وہ اپنے جھگڑے اور اختلاف کو بھول کو متحدہ طور پر ہو یوں کے مقابلہ کے لئے کھڑا ہو گیا ہے مگر کیا ریوں میں یہ طاقت ہے؟ کیا یہ معاملہ صرف عرب سے تعلق رکھتا ہے۔ظاہر ہے کہ نہ عربوں میں اس مقابلہ کی طاقت ہے اور نہ یہ معاملہ صرف عربوں سے تعلق رکھتا ہے۔سوال فلسطین کا نہیں سوال مدینہ کا ہے۔سوال یروشلم کا نہیں سوال خود مکہ مکرمہ کا ہے سوال