تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 381 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 381

قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب (صدر)، ابو الفتح مولوی محمد عبد القادر صاحب ایم۔اسے ریٹائرڈ پروفیسر کلکتہ یونیورسٹی (سیکرٹری)، حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب، پیرو فیر قاضی محمد اسلم صاحب ، ناظر صاحب تعلیم و تربیت مولوی عبد الرحیم صاحب درد ، مولوی ابو العطاء صاحب اور سید محمود اللہ شاہ صاحب۔اس کمیٹی نے حکومت مغربی پنجاب کو جو مشورہ دیا وہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے الفاظ میں درج ذیل کیا جاتا ہے :- تمہیدی نوٹ) اصل مشورہ پیش کرنے سے قبل میں یہ امر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہماری کمیٹی اپنے مشورہ کو صرف اصولی حد تک محدود رکھے گی اور نصاب کی تفصیلات میں جانے یا کتب تجویز کرنے کے متعلق کوئی مشورہ پیش نہیں کیا جائے گا۔اور دراصل اس معاملہ میں زیادہ اہم سوال اُصول ہی کا ہے اور تفصیلات کو بغیر کسی خطرہ کے زیادہ عملی تجربہ رکھنے والے واقف کاروں پر چھوڑا جا سکتا ہے۔بہر حال جو اصولی مشورہ ہماری کمیٹی امور ستفسرہ کے متعلق دینا چاہتی ہے وہ ذیل کے چند مختصر فقرات میں درج کیا جاتا ہے۔جہاں تک تعلیم کی غرض و غایت کا سوال ہے وہ محض تعلیم کے لفظ سے پوری طرح ظاہر نہیں کی جا سکتی کیونکہ تعلیم کے لغوی معنے صرف علم دینے کے ہیں مگر اصطلاحی طور پر تعلیم کا مفہوم اس لغوی مفہوم کی نسبت بہت زیادہ وسیع اور بہت زیادہ گہرا ہے۔در اصل اگر تعلیم کے صحیح مفہوم کو مختصر لفظوں میں ہی ادا کر نا ہو تو صرف لفظ تعلیم کی بجائے تین الفاظ کا مجموعہ زیادہ مناسب ہو گا اور یہ تین الفاظ تعلیم و تویر و تربیت ہیں تعلیم کی غرض وغایت ہرگز پوری نہیں ہو سکتی جب تک یہ معین علم سکھانے کے ساتھ ساتھ بچوں کے دماغوں میں روشنی پیدا کرنے اور پھر اس کے معلومات کے مطابق عملی مشق کرانے کا انتظام نہ ہو۔بچوں کے دماغوں میں محض خشک معلومات کا ذخیرہ ٹھونس دینا چنداں نفع مند نہیں ہوتا جبتک کہ ان کے دماغوں کی کھڑکیاں کھول کر علم کے میدان کے ساتھ بنیادی لگاؤن پیدا کیا جائے۔اور پھر تکلی مشق کے ذریعہ بچوں کی قوت عملیہ کو ایک خاص ڈھانچے میں نہ ڈال دیا جائے۔اب ظاہر ہے کہ تعلیم کا جو وسیع مفہوم اوپر بیان کیا گیا ہے وہ کبھی حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ ہر قوم اپنی قومی اور ملکی ضروریات کے پیش نظر اپنے بچوں کی تعلیم کا پروگرام مرتب نہ کرے۔انگریز نے اپنے زمانہ میں جو غرض و غایت تعلیم