تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 378 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 378

۳۷۵ کہ سلامتی کونسل میں کشمیر کے قبضہ کو یہاں ننکانہ اور قادیان کے تبادلے کے قضیہ سے ملا دیا گیا ہے اور محض اس لئے ملا دیا گیا ہے کہ ایک چالاک ہندو اخبار تو لیس نے موقع کی نزاکت کو دیکھ کہ ایک ایسی بات کہہ دی ہے جس کے متعلق وہ جانتا ہے کہ مسلمانوں میں ضرور انتشار خیال پیدا ہو جائے گا او یہاں وہی ہوا۔چوہدری محمد ظفر اللہ کے متعلق یہ کہنا کہ وہ پاکستان کے کسی معاملے کو قادیان کے کسی معاملے سے ملا سکتے ہیں ہماری ناقص رائے میں ایک بہت بڑی جسارت ہے اس لئے کہ جب باؤنڈری کمیشن کے سامنے قادیان والوں نے اپنا نقطۂ نگاہ پیش کیا اور کمیشن کے ایک ممبر نے چوہدری محمد ظفر اللہ سے پوچھا کہ آپ ان کی تائید کرتے ہیں تو انہوں نے جھٹ جواب دیا کہ صاحب یکی تو پاکستان کا کیس پیش کر رہا ہوں مجھ سے پاکستان کی نسبت پوچھیے۔صرف یہی نہیں بلکہ بیٹی کی مد ظفرال اس وقت یہاں موجود نہیں ہیں یہ پرتاپ نے قادیان اور شکانہ کا ذکر اس انداز سے کیا ہے کہ چو ہدری صاحب واپس آکر اس فیصلے کی تصدیق کریں گے۔اور اس شرارت سے اس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ مسلمانوں میں ذہنی طور پر انتشار پیدا کیا جائے اور اندرونی طور پر جو کچھ یک جہتی اور ہم آہنگی کشمیر کے معاملے میں مسلمانوں میں پائی جاتی ہے اسے ان پرانے مباحث کی نذر کرا دیا جائے جس کے متعلق مسلم لیگ نے انسانی اجتماعیات کی تاریخ میں بے مثال فتح محاصل کی تھی اور جو حیات مسلمانوں کی خوش قسمتی سے کچھ دن ہوئے بالکل ختم ہوئے تھے۔یاد رکھئے کہ یہ وقت ہم آہنگی ہم قدمی اور ہم دوستی کا ہے، کسی بیرونی اطلاع کی بنا پرجس کی تصدیق نہ ہو سکے یا کسی ایسے افواہ آمیز بیان پر جو شہر رنگا دیا گیا ہو آپس میں الجھ پڑنا مناسب نہیں۔دشمن کی چال یہی ہے آپ اس چال میں آئے تو نقصان آپ کا ہو گا ننکانہ اور قادیان کا تبادلہ کوئی طاقت بھی اس وقت تک نہیں کر سکتی جب تک آپ نہ چاہیں۔یہ دونوں مقامات کیسی ایسے شخص کے باپ کی جاگیر نہیں ہیں جو آپ کی مرضی کے خلاف دوسروں کے حوالے کر دے، یہ توقوموں اور ملکوں کی زندگی کی عزت و آبرو کا مسئلہ ہے اسے کوئی فرد واحد خواہ کتنا ہی بڑا ہوکے نہیں کو سکتا اسے قومیں ہی طے کر سکتی ہیں۔تنکانہ ایک قوم کا مذہبی مقام ہے اور مذہبی مقامات کے احترام کو مسلمان قوم اچھی طرح جانتی ہے اِس کے لئے سیکھوں کو قادیان والوں سے انہیں پاکستان