تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 375 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 375

۳۷۲ ہندو پریس کا جماعت احمدیہ کے خلاف متعصب ہندو پریس جو جماعت احمدیہ کے خلاف ہمیشہ ہی مسلم مفادات کے تحفظ کی پاداش میں گمراہ کن اور زہریلا پروپیگنڈا برسیت کا ر رہا۔قادیان کے بیرونی مملوں سے احمدی آبادی کے مستقل انخلاء اور مرکزی محمد میں حلقہ درویشاں کے قیام پر ایک سوچی بھی سکیم کے مطابق دو بارو زہر اگلنے لگا۔چنانچہ اخبار پر تاپ (نئی دہلی) نے دور جنوری مٹہ کو اپنے اندرونی بغض و عناد کا اظہار کرتے ہوئے بعنوان یہ پاکستان ہے" لکھا :۔ه قادیان ضلع گورداسپور میں ایک چھوٹا سا قصبہ تھا جسے مرزا غلام احمد بانی جماعت احمدیہ کی بدولت خاص اہمیت مل گئی ہے۔یہ احمدیوں کا گڑھ ہے۔۔۔احمدی بھاری تعداد میں وہاں آباد ہوتے گئے اس لئے اس کی آبادی بھی بہت بڑھ گئی ہے۔۵ار اگست سے پہلے احمدیوں نے پوری کوشش کنی که گورداس پور کا ضلع پاکستان میں آجائے۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ مسلمان انہیں کا فر سمجھتے ہیں انہوں نے پاکستان کے حق میں آواز اُٹھائی لیکن ۵ا۔اگست سے پہلے ہی اس جماعت کے موجودہ خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد لاہور چلے گئے اور ان دنوں دیوان بہا در کوش کشور کی کو بھٹی اور رتن باغ پر قابض ہیں۔اپنی جائداد کی حفاظت کے لئے وہ تین سو پچاس کے قریب احمدی قادیان چھوڑ آئے ہیں۔انہوں نے مشرقی پنجاب کی گورنمنٹ سے مطالبہ کیا کہ اتنے احمدیوں کو قادیان رہنے کی اجازت دی جائے اور اس کے ساتھ ہی۔اس بات کی بھی کہ ہر تمیرے مہینے یہ ساڑھے تین سو والنٹیر زبدل دیے ہمایا کریں۔اس نے ان کی یہ بات نہ مانی لیکن ان ساڑھے تین سو احمدیوں کو جو قادیان میں رہ کر پاکستان کے پانچویں کالم کا کام دیتے ہیں وہاں سے نکالا بھی نہیں۔بقیه حاشیه صفحه گزشتہ :- زیر بحث تھا چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کے بذریعہ ڈاکہ نیو یارک نهایت با قاعدگی سے ضروری مواد بھجوایا کرتے تھے چنانچہ آپ نے ۱۷ مار صلح / جنوری یہ کے ایک مکتوب میں حضرت مصلح موعود کی خدمت میں لکھا ، یکی مسکرم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو قریباً روزانہ ایک دو خط حوالہ جات وغیرہ کے متعلق لکھتا رہتا ہوئی۔دھ کھتا ہیں بھی بھیجوائی ہیں اور دو عدد فوٹو سیٹ بھی۔کل مرا می بینیر جی کا اصل حوالہ بھیجوایا تھا اور آج مزید جو وہ عدد حوالے ہوائی ڈاک کے ذریعہ بھجوا رہا ہوں ، یہ حوالے عزیز میاں ناصر احمد صاحب کے سٹاف نے نکالے ہیں۔۔۔ان میں سے بعض حوالے بہت مفید ہیں" (خط کے آخر میں مندرجہ حوالہ جات کے ماخذ بھی درج کئے گئے ہیں ) ہے