تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 369 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 369

ضرت مصلح موعود پر اس واقعہ کا جو فوری رد عمل ہوا وہ حضور حضرت مصلح موعود کا رد عمل نے اور ظہور/ اگست کے خطبہ جمعہ میں بایں الفاظ بیان رمایا :- ۶۱۹۴۸ میجر محمود صاحب کی شہادت کے واقعہ کا رد عمل لوگوں کے اپنے اپنے نظریہ کے مطابق ہوا ہو گا۔بعض کا برا اور غیر اسلامی رد عمل ہوگا اور بعض کے نزدیک اس کا رو عمل اچھا ہوا ہوگا۔یہ حملہ جو میر محمود پر کیا گیا ہے تو اتفاقی حادثہ ، در حقیقت یہ حملہ احمدیت پر کیا گیا ہے میجر محمود تو وہاں " اتفاقاً پہلے گئے اگر کوئی اور احمدی ہوتا تو اس کے ساتھ بھی یہی واقعہ پیش آتا کیونکہ میر محمود پر کسی ذاتی عناد کی وجہ سے حملہ نہیں کیا گیا بلکہ ان کے احمدی ہونے کی وجہ سے ہوا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ جماعت کے دوستوں نے تبلیغ کی طرف توجہ نہیں دی۔انہوں نے اپنے عقائد کو لوگوں پر واضح نہیں کیا اگر انہوں نے بتایا ہوتا کہ جماعت احمدیہ کے یہ عقائد ہیں تو ان سے یہ حرکت سرزد نہ ہوتی۔انہوں نے اگر شہید کیا ہے تو اس عقیدہ کے ماتحت کیا ہے کہ ان کا یہ فعل انہیں خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والا ہو گا۔اس واقعہ سے ہمارے اندر جو ردعمل ہونا چاہیے وہ یہ ہے کہ ہم پہلے سے بھی زیادہ انہماک اور تندہی سے تبلیغ کی طرف متوجہ ہوں۔مامورین کی جماعتوں پر ظلم ہوتے ہیں اور وہ ظلموں کے نیچے ہی بڑھتی اور پھولتی ہیں۔دشمنوں میں بھی مشریف الطبع انسان ہوتے ہیں ان کے اندر ظلموں کو دیکھ کر دلیری پیدا ہو جاتی ہے اور سلسلہ میں داخل ہو جاتے ہیں چنانچہ میجر محمود کی شہادت کے بعد ایک دوست آئے اُن کے دل میں احمدیت کی پنچائی گھر کر گئی ہوئی تھی لیکن ایمانی جرأت پیدا نہ ہوئی تھی اِس واقعہ نے ان کے اندر جرات پیدا کر دی اور وہ یہ کہتے ہوئے کہ میجر محمود احمد صاحب شہید کی خالی جگہ اور اس کمی کو پورا کرنے کے لئے یکن احمدیت میں داخل ہوتا ہوں، احمدیت میں داخل ہو گئے۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی حضرت حمزہ اور حضرت عمرہ کے واقعات اس کی تصدیق کرتے ہیں۔وہ ظلموں سے متاثر ہو کر ایمان کی روشنی سے منور ہوئے تھے۔تو اس قسم کے ظلم و تشدد کے واقعات جماعت کی ترقی کا باعث ہوتے ہیں۔اِس لئے ہمیں زیادہ سے زیادہ وقت تبلیغ پر صرف کرنا چاہئیے تا صحیح عقائد ان پر واضح ہو جائیں اور احمدیت کی سچائی کھل جائے یا اے له الفضل ۲۸ ظهور/ اگست صدا کالم لا : ۶۱۹۴۸