تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 363 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 363

تعاقب کرتے ہوئے قریب کی جگہ میں ہی آپ کو چھرا گھونپ کر شہید کر دیا ہے ڈاکٹر میجر محمود احمد صاحب کی اس المناک شہادت نے ایک نوجوان کے اندر ایمانی حرارت پیدا کر کے اسے مجبور کیا کہ وہ احمدیت میں داخل ہو جائے چنا نچہ وہ شہادت کے معاً بعد حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضور کے دست مبارک پر بیعت کر لی۔نمازہ ظہر کے بعد ایک اور دوست نے بھی حضور کے ہاتھ پر بیعت کی۔اس طرح دو افرا د سلسلہ میں شامل ہوئے۔ڈاکٹر صاحب شہید کی نعش مبارک غسل دینے کے بعد چھ بجے کے قریب ان کے مکان سے پارک ہاؤس لائی گئی۔تقریباً تمام احمدی دوست اس جنازہ کے ساتھ شامل تھے اور ان کے پیچھے پولیس کی لاری تھی بعضور نے نماز عصر کے بعد شہید کا چہرہ دیکھا اور نماز جنازہ پڑہائی بجے کے قریب دوستوں نے نعش مبارک کو اٹھایا اور قبرستان کی طرف روانہ ہوئے۔حضور پر نور بھی ساتھ تشریف لے گئے۔تمام احمدی دوست اپنے بھائی کی جدائی پر افسردہ اور آخری خدمت کرنے کیلئے بیتاب تھے۔ہر ایک کی خواہش تھی کہ وہ اپنے بھائی کی نعش کو کندھار ہے۔اور وہ اس خواہش کو پورا کرتے ہوئے دیکھائی دے رہا تھا۔قبرستان پارک ہاؤس سے کوئی اڑھائی تین میل کے فاصلہ پر تھا اور وہاں پہنچنے تک کوئی ایک گھنٹہ صرف ہوا نعش کو جب صندوق میں جو قبر میں رکھا جا چکا تھا اُتارا جا رہا تھا تو حضور نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر کسی نعش کو معین عرصہ کے لئے دفن کیا جائے تو اس عرصہ کے اندر ہی نکالی جا سکتی ہے۔فرمایا یہ ایک وہم ہے زمین کے سپرد ایک امانت کی جا سکتی ہے جس وقت چاہیے واپس لی جاسکتی ہے۔اس طرح میت کو بغیر کسی عرصہ کے تعین کے امانتا و فن کر دیا گیا۔دفن کرنے کے بعد تمام دوست کھڑے تھے اور گور کن قبر کی مٹی کو ٹھیک کو رہا تھا تو اس وقت حضور نے فرمایا کہ دفنانے کے بعد جو دعا پڑھی جاتی ہے اس سے عام لوگ *" لے ڈاکٹر میجر محمود شہید امرتسر کی مشہور احمدی قاضی فیملی کے چشم و چراغ ، قاضی محمد شریف صاحب ریٹائرڈ انجنیر لائل پور کے مما جزا دے اور قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اے (کینٹ ) سابق پرنسپل تعلیم الاسلام کا لج کے بھتیجے تھے۔بہت متدین نوجوان تھے زمانہ درویشی کے ابتدائی ایام نایت و فان ماری سے قادیان میں گزار ہے اور گورا نتنا طبی خدمات بجا لاتے رہیے ہے