تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 362 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 362

۳۵۹ دینا اپنا شیوہ بنا لیا۔اس اشتعال کو دیکھ کر سعید روحوں میں تحقیق اور جستجو کی خواہش پیدا ہوئی انہوں نے تحقیق حق کرنے کے لئے ضروری سمجھا کہ وہ ہمارے پاس آئیں اور خدا کے مصلح موعود کے چہرہ مقدس کو دیکھیں اور اصل حقیقت سے آگاہی حاصل کریں۔مخالف طبقہ نے اس خیال سے آنا شروع کیا کہ وہ اس سلسلہ کو نیست و نابود کرنے کا طریقہ تلاش کریں۔چنانچہ عید کے بعد لوگوں کے گروہ در گروہ آنے شروع ہوئے۔بوڑھے، بچے اور جوان اور ہر قسم کے طبقہ کے لوگوں نے حضور کی قیام گاہ پر آنا شروع کر دیا۔اس وقت سے عجیب ایمان افروزہ ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ٹولیاں آتی ہیں جاتی ہیں، آکر تبادلۂ خیالات کرتی ہیں اور اصل حقیقت کو معلوم کر کے اس سے استفادہ کرتی ہیں بعضور پُر نور سے ملاقات کر کے ان کے مشتعل جذبات نہ صرف ائل ہو جاتے بلکہ ان کے دل اس بارے پر مجبور ہو جاتے کہ وہ شہدا کے پاک مصلح موعود کو خدا رسیدہ ہستی یقین کریں چنانچہ حق کے پیاسوں کے لئے یہ ایک نادر موقع تھا اور اکثر اس سے فائدہ اُٹھاتے بھی تھے جس روز سے شورش پیدا ہوئی اُسی دن سے سعید الفطرت لوگوں کا حق کی طرف رجوع ہونا شروع ہوا۔چنانچہ مورخہ ۱۴ کو پیار اشخاص بیعت میں داخل ہوئے۔ایک شخص صبح آیا ملاقات کی اور بعیت بھی ساتھ ہی کر لی۔ایک شخص نے ظہر کی نماز کے بعد اور دو افراد نے درس قرآن کریم کے بعد دستی بیعت کی "ا ڈاکٹر میجرمحمود احمد صاحب کی منظور پر اگت کا واقع ہے کہ ہار ہے شب حضرت ۱۹ بجے مصلح موعود کی قیام گاہ واقع لٹن روڈ کے قریب بعض المناک شہادت شورش پسندوں نے احمدیت کی مخالفت میں ایک جلسہ منعقد کیا جس میں انتہائی اشتعال انگیز تقریریں کی گئیں۔جلسہ کے دوران ایک مخلص اور ہونہار احمدی نوجوان ڈاکٹر میجر محمد احمد صاحب کا وہاں سے اچانک گزر ہوا۔کیا دیکھتے ہیں کہ مشتعل ہجوم ایک احمدی کو خواہ مخواہ پیٹ رہا ہے میجر صاحب نے اپنی موٹر روک لی اور اس شور وشر کی وجہ دریافت فرمائی۔اس پر بعض غنڈوں نے آپ پر پتھر برسانے شروع کر دیئے اور موٹر پر بھی نشست باری کی اور له الفضل ۲۱ ظهور/ اگست هام : ۶۱۹۴۸