تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 355
۳۵۲ تو ہم یہ دعوی کریں کہ دنیا ہمارے ہاتھ پر فتح ہو گی اور دوسری طرف دنیا کو فتح کرنے کا جو ایک ہی ذریعہ ہے یعنی اسلام اور احمدیت کی تبلیغ اس کی طرف توجہ نہ کریں۔دنیا کی فتح کے یہ معنے تو نہیں کہ دنٹس نہیں آدمی ڈنڈے لے کر کھڑے ہو جائیں گے اور دو ارب کی دنیا پر حکومت شہر ہے کر دیں گے دُنیا کی فتح کے معنے ہیں کہ دنیا کی دو ارب آبادی میں سے کم از کم سوا ارب احمدی ہو جائیں اور یا پھر ان لوگوں کو اگر ہم تبلیغ نہیں کرتے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ احمدیوں کو اتنی قلات حاصل ہو جائے گی اور ساتھ ہی وہ اتنے ظالم بن جائیں گے کہ وہ دوسرے لوگوں کے حقوق کو تلف کر کے ان پر جابرانہ اور ظالمانہ حکومت کرنی شروع کر دیں گے۔یا ہم یہ امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالی ساری دنیا کو مار ڈالے اور صرف احمدی ہی دُنیا میں باقی رہ جائیں۔آخر ہم اگر تبلیغ سے کام نہیں لیتے اور ساتھ ہی یہ امید رکھتے ہیں کہ دنیا پر غالب آجائیں گے تو سوائے ان دو باتوں کے ہم دنیا پر غالب ہی کیس طرح آسکتے ہیں۔دنیا پر غالب یا تم تبلیغ کے ذریعے آ سکتے ہو اور یا پھر دنیا پر غالب آنے کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم ایٹم بم کی ایجاد کرلیں اور لوگوں کو ایسا ڈرائیں کہ ہمارے چند لاکھ آدمیوں کے سامنے سب لوگ ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہو جائیں اور جو حکم ہم انہیں دیں وہ مان لیں۔گویا دوسرے لوگ وحشی اور جانور بن جائیں گے اور انکی انسانی حیثیت باقی نہیں رہے گی اور ہم ان پر ایسے چھا جائیں گے جیسے ٹڈی دل کھیتوں پر چھا جاتا ہے۔کیا یہ وہی دُنیا ہے جس کا قرآن مجید اپنے مومن بندوں سے وعدہ کرتا ہے۔اور کیا یہی وہ دُنیا ہے جس میں خدا کی بادشاہت ہو گی۔غرض جب ہم کہتے ہیں کہ احمدیت دُنیا پر غالب آجائے گی تو یقیناً اس کے یہ معنی نہیں ہو سکتے کہ ہمیں ایسی طاقت حاصل ہو جائیگی کہ سب لوگ چوہڑوں اور چاروں کی طرح ہمارے ڈنڈے کے ڈر سے ہمارے سامنے ہاتھ جو رہے پھریں گے۔اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم یقیناً ظالمانہ حکومت کو قائم کرنے والے ہوں گے ہم یقیناً جابرانہ حکومت کو قائم کرنے والے ہوں گے۔ایسی حکومت نمرود اور شداد کی حکومت کو بھی بات کرنے والی ہو گی مگر خدا تعالیٰ اپنے رسولوی کو اس غرض کے لئے دنیا میں نہیں بھیجا کرتا۔دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ کوئی ایسی بیماری پڑ جائے جس سے سارے غیر احمدی