تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 353 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 353

۳۵۰ یہی اصل محرک پاکستان کے مطالبہ کا تھا۔پس انفرادی اور قومی زندگی میں اسلام کو داخل کرنا ہمارا سب سے پہلا اور اہم فرض ہے۔اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو یقیناً ہم اپنے دعوئی میں سچے نہیں سمجھے جاسکتے مگر اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ بات بھی کبھی نظر انداز نہیں کرنی چاہیئے کہ ہم نے ساری دنیا میں اسلام کو قائم کرنا ہے اور ساری دُنیا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا بلند کرنا ہے۔پس پاکستان اس منزل کے حصول کے لئے یقیناً ایک قدم تو ہے مگر بہر حال وہ ایک اینٹ ہے اس عمارت کی جو ہم نے ساری دنیا میں قائم کرتی ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس عظیم الشان مقصد کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں اور اس کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے جس قدر بھی قربانیاں کر سکیں ان سے کبھی دریغ نہ کریں " سے ڈاکٹر غفور الحق خاں صاحب نے ماہ و فار جولائی کے ابتداء میں حضرت اورک کا تفریحی سفر امیر المومنين الصلح الموعود کی خدمت میں اورک تشریف لے جانے کی استدعا کی۔اورک کوئٹہ سے چودہ میل کے فاصلہ پر ایک خوش گوار پہاڑی مقام ہے جہاں ایک چشمہ واقع ہے۔چشمہ کے نیچے واٹر ورکس ہے اور اسی واٹر ور کسی سے کوئٹہ کو پانی سپلائی کیا جاتا ہے۔چنانچہ حضور نے ان کی درخواست منظور فرمالی اور 4۔تولائی کو اپنے اہل بیت اور خدام کے ہمراہ وہاں تشریف لے گئے۔ڈاکٹر صاحب موصوف نے اس موقع پر پانچ کاروں اور دو بیرونی کا انتظام کیا ہوا تھا۔حضور انجے صبح روانہ ہو کر پہلے منا لیک دیکھنے کے لئے تشریف لے گئے یہ کوئٹہ سے قریباً آٹھ میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔حضور اس مقام کے نظارہ سے بہت محظوظ ہوئے۔ہتا لیک پر قریباً نصف گھنٹہ قیام فرمانے کے بعد حضور معہ قافلہ اوڑک پہنچے۔اوڑک میں ڈاکٹر صاحب کے بڑے بھائی خان ضیاء الحق صاحب اور ان کے خاندان کے دیگر افراد انتظامی امور میں حصہ لینے اور حضور کی پیشوائی کے لئے پہلے سے پہنچے ہوئے تھے۔حضور کے اہل بیت کے لئے نزدیک ہی سر کاری بنگلہ میں خاطر خواہ انتظام تھا۔کھانا تیار ہونے تک حضور مختلف امور گرفت گو فرماتے رہے۔نماز ظہر پڑھانے کے بعد حضور نے خدام کے ہمراہ کھانا تناول فرما یا۔بعد میں حیض احمدی ه (ملخص الفضل ۲۳ - امان / مارچ هه له ما - ۶۱۹۵۶