تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 351
۳۴۸ بے سروسامان اور ناتجربہ کار لیکن دشمن کا ایک ہزار سپاہی تھا اور وہ سارے کا سارا تجربہ کار آدمیوں پر مشتمل تھا۔ابھی جنگ شروع نہیں ہوئی تھی کہ ابو جہل نے ایک عرب سردار کو بھجوایا اور اسے کہا کہ تم یہ اندازہ کر کے آؤ کہ مسلمانوں کی تعداد کتنی ہے؟ وہ واپس گیا تو اس نے کہا میرا اندازہ یہ ہے کہ مسلمان تین سو اور تین سو تیس کے قریب ہے۔ابو جہل اس پر بہت خوش ہوا اور کہنے لگا ہم نے تو میدان مارلیا اس نے کہا اے میری قوم بے شک مسلمان تھوڑے ہیں لیکن میرا مشورہ یہی ہے کہ مسلمانوں سے لڑائی نہ کرو کیونکہ اسے میری قوم میں نے اونٹوں پر آدمی نہیں بلکہ موتیں سوار دیکھتی ہیں یعنی یکی نے جس شخص کو بھی دیکھا اس کا چہرہ بنتا رہا تھا کہ آج میں نے مر جانا ہے یا مار دیتا ہے۔اس کے سوا اور کوئی جذبہ ان کے دلوں میں نہیں پایا جاتا گویا اس جذبہ انتقام نے مسلمانوں کو ایسی طاقت دے دی کہ ایک شدید ترین دشمن اسلام نے بھی ان کے چہروں سے پڑھ لیا کہ آب وہ اس میدان سے واپس نہیں لوٹیں گے سوائے اس کے کہ وہ کامیابی حاصل کر لیں یا اسی جگہ لڑتے ہوئے جان دے دیں۔جب یہ جذبات کیسی قوم میں پیدا ہو جاتے ہیں تو وہ اسے عام مسلح سے بہت اونچا کر دیتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کچھ اور باتیں بھی ہیں جن کو ہمیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے اور وہ یہ کہ انتقام کا جذبہ صرف نقصان پر مینی نہیں ہوتا بلکہ احساس نقصان پر مبنی ہوتا ہے۔ایک شخص کے اگر دس روپے کوئی شخص چرا کر لے جائے اور اسے محسوس بھی نہ ہو تو اس کے اندر کوئی جذبہ انتقام پیدا نہیں ہو گا لیکن دوسرے شخص کا اگر صرف ایک روپیہ کوئی شخص چرا لیتا ہے اور اسے اس کی چوری کا احساس ہوتا ہے تو اس کے اندر یقیناً جذبہ انتقام پیدا ہو جائے گا پس مہذبات حقیقت پر مبنی نہیں ہوتے بلکہ احساس حقیقت پر مبنی ہوتے ہیں۔اگر ہم کو شدید سے شدید نقصان بھی پہنچا ہے لیکن ہمیں اس نقصان کا احساس نہیں تو محض نقصان اس بات کی دلیل نہیں ہوگا کہ ہمارے اندر جذبہ انتقام پیدا ہو گیا ہے۔یہی حال محبت کا ہے وہ بھی احساس پر مبنی ہوتی ہے۔ایک عیشی کو اپنا کالا کلوٹا بچہ ہی خوبصورت نظر آتا ہے حالانکہ دوسرے کی نگاہ میں وہ بدصورت ہوتا ہے۔فرض انتظام کا جذبہ یا محبت کا جذبہ دو نواں احساس پر مبنی ہوتے ہیں۔جتنے احساسات تیز ہوں اتنا ہی بعد یہ پڑھا ہوا ہوتا ہے اور جتنے احساسات کم ہوں اتناہی اس بند بہ کا فقدان ہوتا ہے۔پس ہمیں صرف اپنے نقصان کا ہی نہیں بلکہ احساس نقصان کا بھی جائزہ لینا پڑے گا۔اسی طرح ہمیں دوسرے فریق کے نقصان اور اس کے احساس نقصان کا