تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 346 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 346

۳۲۳ نے حضور سے شرف مصافحہ حاصل کیا اور حضور یعنی اُن سے از راہ شفقت دیر تا گفتگو فرماتے رہے۔بلوچستان پولیس نے حضور انور کے اس پر اثر خطاب میں بہت کچپی بلوچستان پولیس میں ذکر کرایا لی اور نمایاں صورت میں اس کی خبر شائع کی۔چنانچہ کوئٹہ کے اخبار میزان نے ہم ارجون 90 کی اشاعت میں لکھا :- کوئٹہ ہم ارجون - آج شام کے 7 بجے احمدیہ جماعت کے امام مرزا بشیر الدین محمود اتھ صاحب نے کوئٹہ کی جماعت احمدیہ کے پریذیڈنٹ کی طرف سے دعوت عصرانہ کی تقریب پر تقریر کرتے ہوئے تین اہم نکات بیان کئے۔آپ نے فرمایا کہ اسلام کو دل میں جگہ دو اور دل سے مسلمان بنو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کیجئے۔آپ نے قل إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونی کی آیت شریفہ پیش کی۔آپ نے کہا جو لوگ محکومتِ پاکستان سے آئین اسلامی کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ دراصل وزارت میں تبدیلی چاہتے ہیں۔حکومت پاکستان نے نماز ، روزہ ، حج ، زکواۃ سے کیا منع کیا ہے اور کب شراب خوری ، چوری اور بدکاری کی تعلیم دی ہے ؟ آپ نے دوسرا اہم نکتہ محاذ کشمیر کومضبوط تر بنانے سے متعلق پیش کیا۔آپ نے کہا کہ اگر کشمیر نہیں تو پاکستان نہیں۔یہاں سے دلی خلوص اور اخوت کے جذبہ سے کشمیر کی آزاد فوجوں کی امداد کرنا بہت ضروری ہے اس کام کو بہت وسیع پیمانہ پر کیا جائے۔ہر سلمان ممکن طریق سے زیادہ امداد دے۔تیسرا نکتہ آپ نے یہ بیان کیا کہ جو قوم مرنے سے نہیں ڈرتی وہ کبھی مرا نہیں کرتی ذلیل زندگی سے عزت کی موت ہزار درجہ بہتر ہے۔آج پاکستان کے ہر مسلمان کو یہ تہیہ کم لینا چاہئیے کہ شاندار عزت سے آزاد زندگی بسر کریں۔آپ نے باہمی اختلافات کو ہر مرحلہ پرختم کرنے کی نصیحت کی اور بہت چیدہ مثالیں دے کر واضح کیا۔دعوت بچائے میں سول حکام، اعلیٰ ، بلوچستان بھر کے چوٹی کے نواب اسردار، ملک، معتبرین اور اخبار نویس شامل تھے۔ے اس اخبار کا تماشہ مخلافت لائبریری کے کٹنگ رجسٹر میں موجود ہے :