تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 335 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 335

۳۳۴ کی خواتین مبارکہ اور خدام و خادمات کی جو خدمت کی وہ اس روح عمل کا ایک زندہ ثبوت ہے جو جماعت احمدیہ کوئٹہ کے افراد میں پائی جاتی ہے لیے لجنہ اماء اللہ کوئٹہ کی مبرات نے بھی اسی سرگرمی اور اخلاص کے ساتھ خاندان مسیح موعود کی خواتین مبارکہ کی خدمت میں حصہ لیں جس جوش اور اخلاص کے ساتھ خدام اور انصار با ہر حصہ لیتے رہے ان تین دنوں میں اندرون خانہ کے تمام انتظامات لجنہ اماء اللہ کے سپرد تھے اور مختلف انتظامات کے لئے مختلف خواتین کی ڈیوٹیاں مقرر تھیں چنانچہ ممبرات بڑی سرگرمی سے اپنے فرائض کو ادا کرتی اور صبح چار بجے سے لے کر رات کے ایک ایک بجے تک مہمان نوازی کے فرائض سرانجام دیتی رہیں۔سے جماعت کوئٹہ کے عشاق احمدیت میں سے ڈاکٹر غفور الحق خان صاحت ہے ایک نہایت ممتاز فرد له الفضل ۲۵ احسان / جون ا م : له ايضاً 4 سے صحابی حضرت مسیح موعو د حضرت حاجی نور محمد اه - صاحب شهید فیض اللہ چک کے فرزند !! آپ نے میٹرک کا امتحان تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان سے پاس کیا اور ایم۔بی بی۔ایس کی ڈگری لاہور میڈیکل کالج سے حاصل کی۔بعد ازاں پہلے منٹگمری (ساہیوال) میں پریکٹس شروع کی پھر اپنے بڑے بھائی ڈاکٹر میجر سراج الحق خاں صاحب دلڑی ہسپتال کو ٹرم کی تحریک پر شاہ میں کوئٹہ تشریف نے گئے اور بہت بہار بلوچستان کے چوٹی کے ڈاکٹروں میں شمار ہونے لگے۔حضرت امیر المومنین المصلح الموعود کی خدمت میں کوئٹہ آنے کی استدعا اول آپ ہی کی طرف سے کی گئی تھی اور آپ اس امر کے لئے بھی کھینہ تیار تھے کہ اگر کوئٹہ میں حضور کے لئے کوئی موزوں کو ٹھٹی دستیاب نہ ہوئی تو وہ اور اُن کے بھائی اپنے مکانات حضور کی رہائش کے لئے خالی کر دینگے اسی دوران میں انہوں نے حضور کے لئے دو کو ٹھیوں کا انتظام بھی کر لیا مگر جماعت کوئٹہ نے دوسری کو ٹھٹی کا انتخاب کیا جو بہت ہی مبارک ثابت ہوا مگر اس کو ٹھٹی کو زیر استعمال لانے کے لئے اس کے اردگرد ایک احاطہ کی تعمیر ضروری تھی علاوہ ازیں حضور کی تشریف آوری کے نتیجہ میں مقامی جماعت پر بعض غیر معمولی اور ہنگامی اخراجات کا بار پڑنا ایک لازمی امر تھا۔اسی طرح مہمان نوازی اور دیگر کئی قسم کی ضروریات تین ہزار روپیہ کا فوری تقاضا کرتے تھے جو ڈاکٹر صاحب نے ہینڈ لوم فیکٹری کی طرف سے (جس کے آپ پریزیڈنٹ تھے، فوراً پیش کو دیے (الفضل ۲۲ طور مدام هم ڈاکٹر صاحب موصوف اور ماہ تبلیغ ضروری اس کو قریباً ۳۵ سال کی عمر میں اپنے آسمانی آقا کے پاس حاضر ہو گئے۔حضرت مصلح موعود نے آپ کی نماز جنازہ بھی پڑھائی اور تدفین میں بھی شرکت فرمائی۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے آپ کی البقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر