تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 322 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 322

۳۲۲ کی وجہ سے یہ برداشت نہ کیا کہ ان کے ساتھ مل کر رہیں اور ہم سب نے مل کر کوشش کی کہ ہمیں ایک علیحدہ ملک ملے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ہماری خواہش کو پورا کر دیا اور تمہیں پاکستان کی شکل میں ایک علیحدہ ملک عطا کیا مسلمانوں کی اس جد وجہد کو دیکھ کر مہندوؤں کے دلوں میں خیال پیدا ہو گیا کہ مسلمانوں نے ہمیں سارے ہندوستان پر حکومت کرنے سے محروم کر دیا ہے اور انہوں نے سارے ملک میں مسلمانوں کی سیاست اور خود مسلمانوں کے خلاف شدید پروپیگینڈا کیا۔پہلے ان کی ذہنیت اتنی زیادہ مسموم نہیں تھی اور ان میں سے بعض کے دل میں مسلمانوں کے لئے رواداری کا جذبہ ایک حد تک پایا جاتا تھا لیکن مسلمانوں کے خلاف پروپیگینڈا کی وجہ سے ان کی ذہنیت آب بالکل بدل گئی ہے اور سلمان انہیں سانپ اور کچھو کی طرح نظر آنے لگ گئے۔اگر بعد انخواستہ پاکستان میں گڑ بڑ واقع ہوئی اور اس کے نتیجہ میں ہندوستان کی فوجیں ملک میں داخل ہوئیں تو وہ اس ذہنیت سے نہیں آئیں گی جو اُن کی تقسیم ملک سے پہلے تھی۔اُس وقت تعصب اتنا زیادہ نہیں تھا جتنا آب ہے۔ہم تو سمجھتے ہیں کہ پاکستان حاصل کر کے مسلمانوں نے اپنا ایک جائز حق لیا ہے کوئی جرم نہیں کیا لیکن سوال یہ نہیں کہ ہم کیا سمجھتے ہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ جس سے ہمارا معاملہ ہے وہ کیا سمجھتا ہے والے حضرت مصلح موعود چارسدہ اور اوتمان زئی سے ہوتے اوتمان زئی سے راولپنڈی تک ہوئے مرد ان تشریف لائے جہاں ایک رات قیام فرمانے مرد کے بعد اگلے روز اور ماہ شہادت / اپریل کو رسالپور سے ہوتے ہوئے تو شہرہ پہنچے اور نوشہرہ سے پانچ بچے کی گاڑی کے ذریعہ راولپنڈی میں رونق افروز ہو گئے۔راولپنڈی کے جلسہ عام میں حضرت مصلح موعود کا ۳ ماه شهادت راپریل کوحضرت میرانی مصل المصلح الموعود نے نشاط سینما ہال راو و سی دی اثر انگیز خطاب اور اس کا پریس میں چھر چا میں ایک نہایت اثر انگین نیچر دیا اخبار ام ۱۳۳۳ الفضل ۲۲ اضاء/ اکتوبر ها کالم ۲ : له افسوس پشاور سے راولپنڈی تک کے حالات ے ۱۱۹۵۴ سفر سلسلہ کے مطبوعہ لٹریچر میں محفوظ نہیں البتہ ماسٹر نور الحق صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ چارسدہ اور مکرم آدم بناں صاحب امیر جماعت احمدیہ مردان کے چشمدید بیانات شامل نیمہ ہیں :