تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 320 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 320

٣٢٠ فرض ہے کہ وہ یہ عزم وہ یہ عہد وہ یہ ارادہ کرے کہ وہ خود مر جائے گا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو ، آپ کی تعلیم کو زندہ کر کے چھوڑے گا۔اب ہماری زندگیاں ہمارے لئے نہ ہوں صرف اور صرف اسلام کے قیام اور اس کی اشاعت کے لئے ہوں۔جمعہ کی نماز کے بعد حضور نے عورتوں میں تقریر فرمائی۔عصر کی نماز کے بعد حضور خان عبد الحمید خان صاحب آفت زیدہ کی دعوت پر پروین ہوٹل میں تشریف لے گئے۔بعد نماز مغرب ہوائی جہازوں کے محکمہ میں ملازم ڈوبنگالی احمدی نوجوانوں کو نیز دیگر مختلف دوستوں کو شرف ملاقات بخشا۔احمدی دوستوں نے حضور کی خدمت میں نوٹ نیکیں پیش کیں کہ حضور کوئی نصیحت لکھ دیں اس پر حضور نے ایک نوٹ بُک پر لکھا " اتَّقُوا الله " پر لکھا اللہ تعالیٰ پر توکل کرو ایک پر لکھا " سنجیدگی اختیار کرو ایک پر کلمہ طیبہ لکھا اور دستخط کر دئیے۔لے لے حضور در باره شهادت / اپریل کو بذریعہ موٹر پشاور سے چارسدہ ر سے چارسدہ تک تشریف لے آئے۔دانشمند خاں صاحب آن موضع باندا الحب پشاور تحصیل نوشہرہ (والد ماجد جناب بشیر اسد خان صاحب رفیق امام مسجد لنڈن ) تحریر فرماتے ہیں کہ۔حضور خاں صاحب محمد اکرم خان درانی کی درخواست پر چارسدہ کے لئے روانہ ہوئے راستہ میں وہ آشرم حضور کو دکھایا گیا جو نہاں عبد الشغار خاں نے دریائے ناکھاں سے کنارے پر بنوایا تھا۔چارسدہ میں خان صاحب مرحوم کے مکان پر حضور فروکش ہوئے۔مجھ کو یاد ہے کہ حضور کی ملاقات کے لئے ملک عادل شاہ صاحب با وجود سخت بیماری کے پھاوسندہ تشریف لے آئے تھے۔ظہر کی نماز حضور نے اس مسجد میں ادا فرمائی جس میں له الفضل 14 شهادت / اپریل مکه مکرم جناب دانشمند خان صاحب در آن موضوع بانٹا محب تحصیل نوشہرہ ضلع پشاور) کا بیان ہے کہ حضور پیشاور صدر میں شیخ مظفر الدین احمد صاحب کی کوٹھی میں مقیم تھے۔حضور نے حکم دیاتھا کہ جن کے پاس اسلحہ کا لائسنس ہو وہ اپنے اسلحہ کے ساتھ آئیں چنانچہ میں بھی اپنی شاٹ گھی کے ساتھ حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور علاقہ خلیل اور مہمند ضلع پشاور اور چار سدہ کے دوست بھی اپنے اپنے اسلحہ کے ساتھ پہنچے گئے ہے سے سفر چار سدہ سے متعلق جناب ماسٹر نور الحق صاحب امیر جماعت چارسدہ کا بیان ضمیمہ میں درج ہے ؟