تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 319 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 319

۳۱۹ علماء کے طبقہ کو تبلیغ کرے۔ایک ایسی انجمن ہو جو کالج کے طلباء کو تبلیغ کرے۔ایک ایسی انجمن ہو جو وکلاء اور بیرسٹروں کو تبلیغ کرے۔اس طرح ہر طبقہ کے لوگوں کو تبلیغ ہو سکتی ہے۔اس کے بعد دیہاتوں میں تبلیغ کرنے کے متعلق حضور نے فرمایا کہ دیہاتوں کے جو احمدی نوجوان لکھ پڑھ سکتے ہیں وہ اپنی زندگیاں وقف کر یں ہم ان کو تعلیم دیں گے اور وہ اپنے علاقہ میں تبلیغ کریں گے حضور کی یہ مجلس ایک بجے ختم ہوئی۔بعد ازاں حضور نے خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا کہ مجھے خوشی ہے کہ یہاں کی جماعت نے ایسے مواقع بہم پہنچائے کہ مجھے اپنے خیالات کے اظہار کرنے کا موقعہ ملا۔دو ٹیچر ہوئے جن میں علمی طبقہ کو اور عوام کو یکی مخاطب کر سکا۔اسی طرح یہاں کے دوستوں نے دعوتیں کیں اور ان دعوتوں میں فوجی اور سویلین آفیسر، بیرسٹر اور وکلاء تھے اور انہوں نے مجھ سے سوالات کئے میں نے ان کے جوابات دیئے۔اسی طرح یہاں نمازوں میں احمدی دوست آتے رہے اور ان کو مجھ سے ملنے کا موقعہ ملتا رہا۔اسی طرح پشاور کے علمی طبقہ اور عوام اور احمدیوں کے سامنے یکی اچھی طرح اپنے خیالات پیش کر سکا۔اسی طرح غیر احمدی دوست مجھے ملنے آتے رہے۔آپس میں ملتے رہنے سے ایک دوسرے کے متعلق صحیح واقفیت ہو جاتی ہے اور نا واجب اختلاف مٹ جاتا ہے۔حضور نے اس طرف بھی جماعت صوبہ سرحد کو متوجہ کیا کہ آئندہ صوبہ سرحد کو اہمیت حاصل ہونے والی ہے اس لئے پشاور میں اگر کوئی بنا بنایا مکان مل جائے تو وہ خرید لیا جائے یا زمین خرید کو پشاور کے مرکز کو مضبوط کیا جائے اور تبلیغ کر کے اس علاقہ میں جماعت کو بڑھایا جائے مگر کئی سالوں سے اس جماعت میں کوئی ترقی نہیں ہوئی مسلمان کو دنیوی اسباب سے ترقی نہیں مل سکتی اس کو صرف اور صرف قرآن کریم کے طفیل ترقی ملے گی اس لئے قرآن پڑھو دوسروں کو پڑھاؤ خدا تعالیٰ پر تو قتل کرو وہ تمہیں خود علم سکھائے گا۔اس کے بعد حضور نے اپنی زندگی کے بعض واقعات بیان فرمائے کہ کس طرح حضور بچپن سے بیمار چلے آرہے ہیں اور کس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو قرآنی علوم عطا کئے۔پھر حضور نے فرمایا کہ یکن بڑی مدت سے یہ دعا مانگا کرتا تھا کہ اسے اللہ تعالٰی کوئی ایسا علاقہ دے جہاں ہم قرآنی تعلیم کے مطابق عمل کر سکیں اور جہاں اسلامی تہذیب کو رائج کر سکیں۔خدا تعالیٰ نے میری ان دعاؤں کے نتیجہ میں پاکستان کا علاقہ ہمیں عطا کر دیا۔اب ہر احمدی کا