تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 311 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 311

درست کر لیں گے اور نمازوں کو قائم کریں گے تو خدا تعالیٰ ان کے باطن کو بھی درست کر دے گا۔اس مختصر مگر درد انگیز اور پر اثر خطاب کے بعد حضور ٹرین کے ڈبہ میں بیٹھ گئے سیکرٹری مال حراب نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ جولوگ فوج سے ریلیز ہو رہے ہیں ان کے متعلق حضور کی کیا ہدایت ہے، حضور نے فرمایا اس کو پیلیز نہیں ہونا چاہیے۔اس کے بعد تکبیر کے نعروں میں ٹرین پیشاور کے لئے روانہ ہو گئی۔جب گاڑی پشاور شہر کے اسٹیشن پرر کی تو پشاور کی جماعت پر ایا گاڑی پشاور شہر کے اسٹیشن ہوا کے پالیس کے قریب دوست استقبال کے لئے وہاں موجود تھے انہوں نے قطار میں کھڑے ہو کر حضور سے مصافحہ کیا ازاں بور گاڑی پیشاہ چھاؤنی است تان صوبہ سرحد کی مختلف جماعتوں، مثلاً کوہاٹ ، چارسدہ، مردان، پشاور اور ارد گرد کے دیہات کے احمدی احباب قریباً ۵۰ کی تعداد میں موجود تھے پچاس کے قریب غیر احمدی دوست بھی زیارت کے لئے تشریف لائے ہوئے تھے۔یہ سب کے سب صف بستہ کھڑے تھے۔جس ڈبہ میں حضور سوار تھے چونکہ وہ جماعت کے متوقع مقام سے پر سے ٹھرا اس لئے صفوں کو وہاں سے بلا کر پیچھے لانا پڑا اوراز میکو ترتیب کی ضرورت محسوس ہوئی اس میں پانچ سات منٹ کے قریب وقت صرف ہوا اس دوران میں حضور جماعت کے مشورہ کے مطابق گاڑی کے ڈبہ کے دروازہ میں ہی کھڑے رہے اور میجر جنرل نذیر احمد صاب سے گفت گو فرماتے رہے۔حضور نے گاڑی کے دونوں طرف آبادی کو دیکھ کر فرمایا آج یہ نظارہ دیکھ کر مجھے اپنا ایک پرانا خواب یاد آ گیا ہے۔میں نے خواب میں دیکھا کہ لیکن پشاور ٹرین میں بیٹھ کر آیا ہوں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ گاڑی ایک شہر کی گلی میں سے گزر رہی ہے چنانچہ اس وقت گاڑی کے دونوں طرف آبادی دیکھ کر مجھے اپنا رویا یاد آ گیا ہے اور میرے آنے سے، آج پورا آ گیا ہے۔اتنے میں صفوں کو دوبارہ ترتیب دے دی گئی اور شیخ مظفر الدین صاحب امیر جماعت مقامی نے حضور کی خدمت میں گاڑی سے اُترنے کے لئے عرض کیا حضور گاڑی سے اُترے اور دوستوں سے مصافحہ کرنا شروع کیا۔مصافحہ کے دوران میں قاضی محمد یوسف صاحب آف ہوتی امیر جماعت خان شمس الدین صاحب نائب امیر مقامی اور محمد کرم خلال صاحب تعارف کہ اتنے جاتے تھے مصافحہ ختم ہونے پر حضور معہ قافلہ ہم اپریل کو پونے دس بجے صبح شیخ مظفر الدین صاحب کے بنگلہ پر