تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 306
میں نے پرائمری بھی پاس نہیں کی لیکن جب علمی رنگ میں گفتگو شروع ہو تو انہیں میری علمی فوقیت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔آخر کیا وجہ ہے کہ ایک ایم۔اے۔ایل ایل بی یا ایک پر وفیسر یا ایک ڈاکٹر یا ایک فوج کا ماہر بعض دفعہ وہ کچھ بیان نہیں کر سکتا جو خدا تعالیٰ میری زبان سے بیان کروا دیتا ہے۔اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ ان کے علم کا منبع زید اور بکر کی کتابیں ہیں لیکن میرے سارے علم کا منبع خدا تعالٰی کی کتاب ہے۔یہ لوگوں کی غلطی ہے کہ وہ قرآن کریم کو دوسرے لوگوں کی عینک لگا کر پڑھتے ہیں۔اور چونکہ وہ اس منتر یا اُس مختر کی عینک لگا کر قرآن کریم پڑھتے ہیں اس لئے ان کی نظر قرآنی معارف کی تہہ تک نہیں پہنچتی۔وہ وہیں تک دیکھتے ہیں جہاں تک اس مفسر نے دیکھا ہوتا ہے لیکن مجھے خدا تعالیٰ نے شروع سے یہ توفیق عطا فرمائی ہے کہ میں نے خدا تعالیٰ کے کلام کو کبھی انسان کی عینک سے نہیں دیکھا جس دن سے میں نے قرآن کریم پڑھا ہے میں نے یہ سمجھ کر نہیں پڑھا کہ مجھے یہ قرآن رازی کی معرفت ملا ہے یا علامہ ابو حیان کی معرفت ملا ہے یا ابن جریر کی معرفت ملا ہے بلکہ یکس نے یہ سمجھ کر اسے پڑھا ہے کہ مجھے یہ قرآن براہِ راست اللہ تعالٰی کی طرف سے ملا ہے محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے بے شک واسطہ بنایا ہے لیکن مجھے اس نے خود مخاطب کیا ہے اور جب اس نے مجھے خود مخاطب کیا ہے تو معلوم ہوا کہ میرے سمجھنے کے لئے تمام سامان اس میں رکھ دیا ہے۔اگر سامان نہ ہوتا تو مجھے مخاطب ہی نہ کرتا۔اس رنگ میں قرآن کریم کو پڑھنے کی وجہ سے جو فائدہ میں نے اُٹھایا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد اور کیسی نے نہیں اٹھایا کیونکہ میں نے اپنے تصور میں خدا تعالیٰ کو اپنے سامنے بٹھا کر اس سے قرآن کریم پڑھا ہے اور دوسرے لوگوں نے انسانوں سے قرآن کریم کو پڑھا ہے اسی لئے مجھے قرآن کریم سے وہ علوم عطا ہوئے ہیں جو دوسروں کو عطا نہیں ہوئے اور اسی وجہ سے ہر علم والے پر اللہ تعالیٰ مجھے کامیابی دیتا چلا آیا ہے۔اکثر دفعہ ایسا ہوا ہے کہ فریق میخانی نے مجھ سے گفت نوکر سے تسلیم کیا ہے کہ وہی بات درست ہے جو نیکی پیش کر رہا ہوں اور اگر کوئی منڈی بھی تھا تو بھی وہ میری بر ترشی کلام کا انکار نہیں کر سکا۔غرض قرآن کریم میں ایسے