تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 305
۳۰۵ آپ نے ضروری کاموں میں صرف کیا اور کتنا غیرضروری کاموں میں صرف کیا۔اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ بہت جلد یہ اندازہ لگا سکیں گے کہ آپ کی بہت سی زندگی رائیگاں چلی جا رہی ہے۔زیادہ عرصہ نہیں صرف آٹھ دس دن ایسا کرنے سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ جن کاموں کو آپ بوجھ محسوس کرتے ہیں یہاں تک کہ بعض دفعہ گھنٹہ گھنٹہ بھر یہی کہتے چلے جاتے ہیں کہ مر گئے بہت بڑا بوجھ آپڑا ہے ذرا بھی فرصت نہیں ملتی۔ان کاموں میں آپ بہت تھوڑا وقت صرف کرتے ہیں اور اکثر حصہ لغو کاموں میں صنائع کر دیتے ہیں۔پس ایک تو یہ تبدیلی اپنے اندر پیدا کرو کہ وقت ضائع کرنے سے بچو اور اسے زیادہ سے زیادہ قیمتی کا موں میں صرف کرنے کی کوشش کرو۔دوسری چیز جس کی میں حجابات کو نصیحت کر نی چا ہتا ہوں بلکہ اصل میں تو یہ پہلی نصیحت ہونی چاہیے تھی، وہ یہ ہے کہ ہماری جماعت کے ہر فرد کو قرآن کریم پڑھنے کی کوشش کرنی چاہئیے۔ہماری ساری ضرورتیں قرآن کریم سے پوری ہو سکتی ہیں۔اور یہ ایک ایسی قطعی اور یقینی حقیقت ہے جس میں شبہ کی کوئی بھی گنجائش نہیں۔آپ لوگ میرے مرید ہیں اور مرید کی نگاہ میں اپنے پیر کی ہر بات درست ہوتی ہے بعض وقعہ اس کی کوئی بات اسے بڑی بھی لگتی ہے تو وہ کہتا ہے سبحان اللہ کیا اچھی بات کہی گئی ہے۔پس آپ لوگوں کا سوال نہیں کہ آپ میرے متعلق کیا کہتے ہیں؟ میں کہتا ہوں غیروں کا میرے متعلق کیا تجربہ ہے۔غیر احمدیوں کی کوئی مجلس ہو۔خواہ پر وفیسروں کی ہو خواہ سائنس کے ماہرین کی ہو خواہ علم الاقتصاد کے ماہرین کی ہو میرے ساتھ مختلف دنیوی علوم سے تعلق رکھنے والے افراد نے جب بھی بات کی ہے انہوں نے محسوس کیا ہے کہ میر نے ساتھ گفتگو کر کے انہوں نے اپنا وقت ضائع نہیں کیا بلکہ فائدہ ہی اُٹھایا ہے۔کثرت کے ساتھ ہر طبقہ کے لوگ مجھ سے ملتے رہتے ہیں مگر ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے میری علمی برتری اور فوقیت کو تسلیم نہ کیا ہو۔یہاں تک کہ بڑے بڑے ماہر فوجیوں کو بھی لیکں نے دیکھا ہے مجھ سے گفتگو کر کے وہ یہی محسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے فائدہ اُٹھایا ہے۔یوں میری تعلیم کے متعلق جب وہ مجھ سے سوال کرتے ہیں مجھے تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ