تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 304 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 304

۳۰۴ پاکستان کو جب کوئی خطرہ پیش آیا وہ سب سے بڑھ کر اس کے لئے قربانی کرے گی تو لازمی طور پر دوسرے مسلمان بھی ہماری جماعت کی نقل کرنے کی کوشش کریں گے۔بلکہ ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ آگے بڑھنے کی کوشش کریں اور اس طرح لوگوں کو بتائیں کہ ملک اور قوم کی خدمت کے معاملہ میں ہم جماعت احمدیہ کے افراد سے پیچھے نہیں بلکہ آگے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ملک کو فائدہ پہنچ جائے گا چاہے وہ ایسا طریق ہمارے بغض کی وجہ سے اختیار کریں یار شک کی وجہ سے کریں یا مقابلہ کی خواہش کی وجہ سے کریں۔بہر حال جتنے لوگ آگے آئیں گے اتنا ہی یہ امر ملک کے لئے مفید اور بابرکت ہوگا پس جماعت کو اپنی ذمہ داریاں سمجھنی چاہئیں مگر ذمہ داریوں کا احساس آپ ہی آپ پیدا نہیں ہو جاتا۔اس کے لئے پہلے اپنی ذہنیت میں تغیر پیدا کرنا ضروری ہوتا ہے۔جب تک وہ ذہنیت پیدا نہ ہو اس وقت تک لوگوں کا وجود نفع رساں نہیں ہو سکتا اس ذہنیت کو پیدا کرنے کے لئے سب سے پہلی چیز جس کو مد نظر رکھنا ہر شخص کے لئے ضروری ہے۔وقت کی قیمت کا احساس ہے۔ہمارے ملک میں لوگوں کو وقت ضائع کرنے کی عام عادت ہے۔بازارمیں جاتے ہوئے کوئی شخص مل جائے تو السلام علیکم کہ کر اس سے گفت گو شروع کر دیں گے اور پھر وہ دو دو گھنٹے تک باتیں کرتے چلے جائیں گے لیے۔لیکن اس کے لئے آپ لوگوں کو ایک موٹا طریق بتاتا ہوں۔اگر آپ لوگ اسے اختیار کر لیں تو یقیناً آپ سمجھ سکیں گے کہ آپ اپنے وقت کا بہت بڑا حصہ غیر ضروری بلکہ لغو باتوں میں ضائع کر دیتے ہیں۔وہ طریق یہ ہے کہ چند دن آپ اپنے روزمرہ کے کام کی ڈائری لکھیں جس میں یہ ذکر ہو کہ میں فلاں وقت اُٹھا۔پہلے میں نے خلاں کام کیا پھر فلان کام کیا۔دن کو تین حصوں میں تقسیم کر لیں اور ہر حصہ کے ختم ہونے پر ھ۔1 منٹ تک نوٹ کریں کہ آپ اس عرصہ میں کیا کرتے رہے ہیں۔اس طرح آٹھ دس دن مسلسل ڈائری لکھنے کے بعد دوبارہ اپنی ڈائری پر نظر ڈالیں اور نوٹ کریں کہ ان میں سے کون کون سے کام غیر ضروری تھے۔اس کے بعد آپ اندازہ لگائیں کہ روزانہ ۲۴ گھنٹوں میں سے کتنا وقت ہ یہاں حضور نے بطور مثال دو چشم دید واقعات سنائے ہو منالی اور کلو میں پیشیں آئے تھے مار مولف )