تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 15 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 15

۱۵ 71984 ر ماه احسان برتون ان کی مجلس علم و عرفان میں مجاہدین فرانس کی ان مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔کی علم ذکر فرمایا۔یہ باتیں مبلغین نے لکھی ہیں اور ہمیں یہ پہلے بھی معلوم تھیں ہم نے نا واقفیت میں مبلغین کو نہیں یہ بھیجا اور نہ مہلتیں ان سے ناواقف تھے۔در اصل جو قوم کامیاب ہونا چاہتی ہے اسے ہر قسم کی تکالیف برداشت کرنی پڑتی ہیں۔اور ہمارے مبلغ ہی سمجھ کر گئے ہیں کہ انہیں کانٹوں پر چلنا ہے اور کانٹے انہیں پیشی بھی آئے ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کے لئے خوشی سے برداشت کر رہے ہیں۔ہمیں یقین ہے کہ اور بھی جو مبلغ جانے والے ہیں وہ یہی سمجھ کر جائیں گے اور یہی سمجھ کر جانا چاہیئے حقیقی لیڈر کا یہ کام ہوتا ہے کہ صاف صاف بتا دیتا ہے کہ فلاں کام کرنے میں تکالیف ہوں گی ہمشکلات پیش آئیں گی، تلواروں کے سایہ میں چلنا ہوگا۔ہرقسم کی تکالیف اور مشکلات برداشت کرنی پڑیں گی جس نے چلنا ہے وہ چلے۔اس کے بعد جو چلتے ہیں وہی کامیاب ہوتے ہیں۔ہماری مشکلات اور تکالیف کی تو ابھی ابتداء ہے۔لوگ ابھی تک تمہیں کھیل سمجھتے ہیں اور ہماری طرف زیادہ متوجہ نہیں ہوتے لیکن جب کوئی قوم ترقی کرنے لگتی ہے اور جلد جلد قدم بڑھاتی ہے تو اس کی زیادہ مخالفت کی جاتی ہے اور اسے زیادہ دکھ اور تکالیف دی جاتی ہیں۔کفار نے جتنا بغض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کی زندگی میں ظاہر کیا متعہ کی زندگی میں ظاہر نہیں کیا تھا۔یے سے ابتدائی ڈیڑھ سال میں تبلیغ کا کوئی باقاعدہ کام نہ کیا جا سکا سب سے بڑی فرانسیسی زبان سیکھنے روک زبان کی تھی۔انگریزی میں کوئی موثر کام کرنا ممکن نہ تھا۔اول تو وہاں کی طرف خصوصی توجہ انگریزی جاننے والے بہت کم ملتے تھے۔اور جو کوئی انگریزی جانتا تھا وہ اس میں بولنا پسند نہ کرتا تھا۔اس وقت کے پیش نظر ملک عطاء الرحمن صاحب نے فرانس پہنچتے ہی اپنی پوری توجه فرانسیسی زبان سیکھنے کی طرف مبذول کر دی جس میں انہیں نمایاں کامیابی ہوئی بلکہ تقریباً سوا دو سال کے بعد مشہور احمدی انگریز مسٹر بشیر آرچرڈ یورپ کے احمدی مشنوں کا دورہ کرتے ہوئے سب سے پہلے پیرس میں ملک صاحب سے ملے تو انہیں فرانسیسی پر خاصہ عبور حاصل ہو چکا تھا۔چنانچہ انہوں نے اپنے سفر نامہ کے تاثرات میں لکھا:۔له الفضل ۲ ماه احسان جون ۱۳۳۵ نمایش