تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 292 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 292

۲۹۲ ہے مگر جب صبح اٹھتی ہے تو اُسے وہ نا ممکن امرممکن نظر آرہا ہوتا ہے اور بعض دفعہ صبح وہ ایک کام کو ممکن سمجھتی ہے مگر جب شام ہوتی ہے تو وہی ممکن امرا سے نا ممکن نظر آنے لگتا ہے ہمیں اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ہمارے سب کام کرتے ہیں اور اُسی پر بھروسہ کرتا ہمارا اولین کام ہونا چاہئیے۔ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے کاموں اور اپنی خوشیوں اور اپنی ہر قسم کی مصروفیتوں میں اللہ تعالیٰ کو زیادہ سے زیادہ راضی کرنے کی کوشش کریں یا لے حضرت مصلح موعود نے قیام کراچی کے تیسرے روز اق دینا ہال میں عظیم الشان پبلک پیکچر سامان رایت می کو ساڑھے پانچ بجے ال خالق شام خالق دینا ہال میں پاکستانیوں سے چند صاف صاف باتیں" کے عنوان سے ایک بصیرت افروز تقریر فرمائی۔صدارت کے فرائض آنر سیل حاتم ہی طبیب جی چیف جسٹس سندھ چیف کورٹ نے انجام دیئے ہال سامعین سے بھرا ہوا تھابلکہ سینکڑوں احباب کو باہر کھڑے ہو کو لیکچر سٹنا پڑا۔سامعین کا اکثر حصہ کالجوں کے طلباء ، پر وفیسروں، ڈاکٹروں اور وکلاء وغیرہ پر مشتمل تھا مسٹر ایم۔انکے گزدر ایم۔ایل۔اسے ایڈوائز رحکومت سندھ مسٹریدنی ڈپٹی سیکرٹری حکومت پاکستان۔خان بہادر نذیر احمد ریٹائرڈ چیف جسٹس کشمیر مسٹر حاتم علوی، مسٹر واسطی وائس پرنسپل سندھ کالج اور مرکزی و صوبائی حکومت کے متعدد دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔حضور کی تقریر ڈیڑھ گھنٹہ تک کامل انہماک و سکون اور گہری ڈپ ہی سے سنی گئی۔تقریرہ کے آغاز میں حضور نے مقررہ موضوع کی وسعت کا ذکر کیا اور فرمایا کہ یہ موضوع در اصل ایک طویل داستان کی حیثیت رکھتا ہے تاہم چونکہ یہ کراچی میں میرا پہلا ٹیچر ہے اور مجھے معلوم نہیں کہ کراچی کے باشندے کیسی حد تک میری باتیں سننے کے لئے تیار ہو سکتے ہیں اس لئے لکی مضمون کے بہت سے حصوں کو چھوڑ کر چند ضروری امور بیان کرنے پر اکتفاء کروں گا۔سب سے پہلے حضور نے اس بات پر زور دیا کہ چونکہ پاکستان ایک نئی حکومت ہی نہیں بلکہ ایک نیا ملک بھی ہے اس لئے پاکستانیوں کو وطنیت کا وہ جذبہ اپنے اندر پیدا کرنا چاہیئے جو پہلے له الفضل بر شهادت / اپریل ها مث :