تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 289 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 289

۲۸۹ یہ مطالبہ نہیں کیا جا سکتا کہ ہم بھی اس معاملہ میں وہی کچھ کر یں جو اور لوگ کرتے ہیں۔دوسرے ہم یہ ضروری نہیں سمجھتے کہ عبادت گاہ ہی ہو تو اس پر قبضہ کر لینے سے جذبات کو ٹھیس لگتی ہے بلکہ عبادت گاہ کے بغیر بھی ایسی چیزیں ہیں جن کے چھینے جانے یا جن پر دوسرے مذاہب کے قبضہ کر لینے سے جذبات کو ٹھیس لگتی ہے۔اس نقطۂ نگاہ کے ماتحت قطع نظر اس سے کہ اس کا نام صرت مند ر تھا چونکہ وہ ایک ہندو کی عمارت ہے اور یہ عمارت نہ ہی مطلبون اور مذہبی انجمنوں کے انعقاد کے لئے استعمال کی جاتی تھی اس لئے اپنے اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے لیکں نے یہ پسند نہیں کیا کہ ہم اس عمارت میں ٹھہریں تا کہ ہماری وہ دلیل جو ہم قادیان کے متعلق دے رہے ہیں کمزور نہ ہو جائے اور ہمارا وہ اصول نہ ٹوٹے جو مذہبی مقامات کی تقدیس اور ان کے احترام کے متعلق ہم دنیا کے سامنے پیش کو رہنے ہیں بعض دوستوں نے کہا ہے کہ وہ اس عمارت کو خریدنے کا انتظام کہ رہے ہیں۔بلکہ مجھے کہا گیا ہے کہ خود مالک مکان اسے فروخت کرنا چاہتا ہے۔چونکہ یہ ایک اہم امر ہے اس لئے اس معامر میں اگر کوئی قدم مقامی جماعت کی طرف سے اُٹھایا جائے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے پوری طرح تمام حالات کو میرے سامنے رکھے اگر میری تسلی ہو گئی اور مجھے اس میں شبہ کی کوئی گنجائش نظر نہ آئی تب بھی میرے نزدیک مناسب یہی ہوگا کہ ہم یہ عمارت نہ لیں کیونکہ اپنے اصول کی پابندی ہمارے لئے نہایت ضروری ہے" سے امس وضاحت کے بعد حضور نے جماعت کراچی کو مسجد، مہمان خانہ اور لائبریری کے لئے ایک موزوں قطعہ تلاش کرنے کی طرف توجہ دلائی۔بعد ازاں ارشاد فرمایا :- دوسری چیز جس کی طرف یکی توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ میں نے آج سٹیشن پر دوستوں کو منع کر دیا تھا کہ وہ میرے گلے میں ہار نہ ڈالیں۔یوں بھی ہار پہنے ہیں مجھے حیاسی محسوس ہوتی ہے لیکن اِس امر کو اگر نظر انداز کر دیا جائے تب بھی میں سمجھتا ہوں کہ حقیقی ضرورتوں کو سمجھنے والے افراد کو اپنے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے زمانہ اه الفضل ۳۰ شهادت اپریل ها