تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 288
۲۸۸ رہائش کو پسند نہ فرمایا اور اس کی بجائے چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب بالقابہ کی کوٹھی پروین ولا واقع ہوشنگ روڈ میں فروکش ہوئے۔لے خدا یا بجے کے قریب حضور باوجود در دفتر س کی خطبہ جمعہ میں خداتعالی کی خوشنودی اور رضا تکلیف کے ناز جمعہ کے لئے تشریف لے گئے اختیار کرنے کی تحریک نماز جمعہ کا انتظام بندر روڈ پر ایک وسیع میدان میں کیا گیا تھا حضور نے خطبہ جمعہ کے شروع میں یہ بتایا کہ :- جماعت کے دوستوں نے ہماری رہائش کے لئے یہاں ایک جگہ تجویز کی تھی جس کا نام مندر ہے۔لوگ کہتے ہیں وہ مندر نہیں تھا بلکہ مذہبی امور کے لئے وہ جگہ بنائی گئی تھی لیکن بہر حال میکن نے اس مکان میں رہنے سے انکار کر دیا ہے۔۔جب میں لاہور آیا تو چونکہ ہمیں کالج اور دوسری ضروریات کے لئے جگہ کی تلاش تھی حکومت پنجاب کے بعض افسروں نے یہ تجویز کیا اور بعض لوگ متواتر اس غرض کے لئے مجھے ملے کہ ہم ننکانہ لے لیں اور اس پر قبضہ کر لیں۔جب بھی ہم اپنی ضروریات اُن کے سامنے رکھتے وہ زور دیتے کہ ہم مکانہ آپکو دے دیتے ہیں لیکن میں نے ہمیشہ اس سے انکار کیا اور کہا کہ جو قانون ہم اپنے جذبات کے متعلق ضروری سمجھتے ہیں اس قانون کے ماتحت ہم دوسروں کے جذبات کا احترام کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں۔چونکہ ننکانہ سکھوں کی ایک مذہبی جگہ ہے اس لئے ہم اس پر قبضہ کر کے دوسروں پر یہ اثر ڈالنا نہیں چاہتے کہ ہم بھی ضرورت کے موقع پر دوسروں کے مذہبی مقامات پر قبضہ کر لینا جائز سمجھتے ہیں۔ہمیں کہا گیا کہ یہ مکانات عالی ہیں او بہر حال کسی نے لیتے ہیں آپ ہی لے لیں۔ہم نے کہا کوئی لے لے سوال تو ہمارے جذبات کا ہے کسی دوسرے شخص کے اگر وہ جذبات نہیں جو ہمارے ہیں یا ایسے مقامات پر قبضہ کر لینا کوئی شخص جائز سمجھتا ہے تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ چونکہ فلاں شخص کے جذبات کے لحاظ سے یہ کوئی بری بات نہیں یا چونکہ ایسے مقامات پر قبضہ کر لینا اور لوگ جائز سمجھتے ہیں اس لئے آپ بھی قبضہ کر لیں۔ان کا معاملہ ان کی ذات سے تعلق رکھتا ہے ہم سے ه الفضل ۱۸رامان / مارچ