تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 278 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 278

۲۷۸ دیکھ رہے تھے کہ میری زندگی کے دن ختم ہو رہے ہیں۔ان حالات کی وجہ سے جب میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی تو مجھے ایک نظارہ دکھایا گیا کہ ایک مہمند رہے اور اس میں کچھ بائے (Buoy ) ہیں۔بوائے انگریزی کا لفظ ہے اور چونکہ مینعتی شے ہے، اس لئے اردو زبان میں اس کا کوئی ترجمہ نہیں (یہ بوائے ڈھول سے ہوتے ہیں جنہیں آہنی زنجیروں سے سمند رہیں چٹانوں کے ساتھ باندھا ہوتا ہے اور وہ سمندرمیں تیرتے پھرتے ہیں اور جو جہاز وہاں سے گزرتے ہیں ان کو دیکھ کر جہازران یہ معلوم کر لیتے ہیں کہ اس ہوائے سے چٹان قریب ہے اور اس سے بچ کر چلنا چاہیئے۔اور اگر سمندر کے اندر چٹانوں کا نشان بتانے کے لئے ہوائے نہ لگے ہوئے ہوں اور جہاز آجائے تو جہاز کے چٹان سے ٹکرا کر ڈوب جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔۔۔تو میں نے دیکھا کہ سمندر میں اسی قسم کے بوائے لگے ہوئے ہیں اور ان کی زنجیریں بہت لمبی ہیں اور دور تک چلی جاتی ہیں۔خواب میں میں خیال کرتا ہوں کہ اس ہوائے کا تعلق میری ذات سے ہے اور تمثیلی رنگ میں وہ بوائے یکی ہی ہوں، اور مجھے بتایا گیا کہ یہ نظارہ پانچ سال کے عرصہ سے تعلق رکھتا ہے تب میں نے سمجھا کہ آئندہ پانچ سال کے اندر کوئی اہم واقعہ اسلام کے متعلق پیش آنے والا ہے اور گویا مسلمانوں کو اس آفت سے بچانے کے لئے میں بطور بائے ہوں۔اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ بھی بتایا کہ جب تک وہ واقعہ پیش نہ آئے مجھے زندہ رکھا جائے گا۔اس رڈیا کے پورا ہونے کا ایک پہلو تو یہ بھی نظر آتا ہے کہ ہمارا ملک اس عرصہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے آزاد ہو چکا ہے اور ایسے حالات میں آزاد ہوا ہے جن کی موجودگی میں آزادی مل جانا خلاف توقع تھا اور کس کو یہ وہم بھی نہیں گزار سکتا تھا کہ اتنی جلدی ہمارا ملک آزاد ہو جائے گا۔پھر آزادی ملنے کے ساتھ ہی ایسے واقعات بھی رونما ہوئے جو آج سے تھوڑا عرصہ پہلے کسی کے خیال میں بھی نہ تھے مسلمانوں پر ایک بہت بڑی تباہی آئی اور بہت بڑی آفت کا انہیں سامنا کرنا پڑژار گو یہ تباہی ہندوؤں پر بھی آئی مگر اس زمانہ میں جب مجھے یہ رویا دکھایا گیا تھا کس شخص کے وہم و گمان میں بھی نہ آسکتا تھا کہ ہمارے ملک میں اتنا بڑا اور عدیم المثال تغییر آئے گا اور ہمارا I ! i