تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 265
۲۶۵ کا مسئلہ کسی مؤثر رنگ میں پیش کیا؟ اس کا اندازہ لگانے کے لئے اخبار نوائے وقت میں شائع شدہ دو خبروں کا مطالعہ کافی ہو گا :۔) (پہلی خبر ، سر ظفر اللہ کی تقریر سے اقوام متحدہ کی کمیٹی میں سکتے کا عالم طاری ہو گیا امریکہ، روس اور برطانیہ کی زبانیں گنگ ہو گئیں ایک سیکس ۱ اکتوبر۔رائٹر کا خاص نامہ نگار اطلاع دیتا ہے کہ اقوام متحدہ کی کمیٹی میں جو فلسطینی مسئلہ کو حل کرنے کے لئے بیٹھی تھی کل پاکستانی مندوب سر ظفر اللہ کی تقریر کے بعد ایک پریشان کن تعطل پیدا ہو چکا ہے اور جب تک امریکہ اپنی روش کا اعلان نہ کر دے دیگر مند و بین اپنی زبان کھولنے کے لئے تیار نہیں۔امریکن نمائندہ جو اس دوران میں ایک مرتبہ بھی بحث میں شریک نہیں ہوا اس وقت تک بولنے کے لئے آمادہ نہیں جب تک کہ صدر ٹرومین وزیر خارجہ سٹر معارج مارشل اور خود وفد ایک مشترکہ اور متفقہ صل تلاش نہ کر لیں۔کمیٹی میں کل کی بحث میں کمیٹی کے صدر ڈاکٹر پر برٹ ایوات (آسٹریلیا ) نے بہت پریشانی اور خفت کا اظہار کیا جب بحث مقررہ وقت سے پہلے ہی آخری دموں پر پہنچ گئی اور امریکن مندوب اس طرح خاموش بیٹھا رہا گویا کسی نے زبان سی دی ہو۔اقوام متحدہ کے تمام اجلاس میں یہ واقعہ اپنی نظیر آپ ہے۔پاکستانی مندوب نے ایک لفظ میں دوسرے مندوبین کے واردات قلب کا اظہار کر دیا جب اس نے اکتا کہ یہ مشورہ دیا کہ چونکہ بعض سرکردہ مند و بدین تقریر کرنے سے واضح طور پر ہچکچا رہے ہیں۔اس لئے فلسطین پر عام بحث فوراً بند کر دی جائے۔امریکی وفد دو دن سے اس بحث میں مبتلا ہے کہ اسے کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہیئے لیکن ابھی تک وہ کیسی فیصلے پر نہیں پہنچ سکا ہے۔وفد کے ایک رکن نے دریافت کرنے پر یہ بتانے سے گریز کیا کہ بقیه حاشیه صفحه گزشتہ :- حمید نظامی کے شکار کے خطوط (مطبوعہ نشان منزل " م میں یہ ذکر ملتا ہے کہ جب وہ ہی آنا عالمی صحافی کا نفرنس میں شرکت کے لئے گئے تو اُن کے جہاز میں ایک یہودی عالم اور ایک یہودی ایڈیٹر بھی سوار تھے جو چو ہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی سخت مذمت کرتے اور آپ کو بڑا بھلا کہ رہے تھے۔یہودی حلقے آپ کی شخصیت سے اتنا بغض و عناد کیوں رکھتے ہیں ؟ مندرجہ بالا پس منظر کی روشنی میں اس کا سبب بآسانی سمجھ میں آجاتا ہے۔۴۹