تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 262
۲۶۲ دوسرے عزیز ظفر احمد کے نام اور تیسرے ملک صلاح الدین صاحب کے نام۔امید ہے آپکو ان میں سے کوئی نہ کوئی خط ۲۶-۲۷ تاریخ تک ہل جائے گا۔جلسہ کا پروگرام فون پر معلوم ہوا میں پہلے لکھ چکا ہوں اور آج اس کے متعلق تار بھی دے رہا ہوں کہ ایک تقریر جماعت احمدیہ کی پچاس سالہ تعلیم پر ہونی چاہیئے کہ احمدی میں حکومت کے ماتحت بھی ہوں اس کے وفادار بن کر رہیں اور اب جبکہ قادیان انڈین یونین میں آگیا ہے۔قادیان میں رہنے والے احمدی اپنے مقررہ اصول کے مطابق انڈین یونین کے وفادار ہیں اور رہیں گے اسی طرح جس طرح پاکستان کی حکومت کے اندر رہنے والے احمدی پاکستان کے وفادار ہوں گے اور لنڈن میں رہنے والے احمدی برطانیہ کے وفادار ہوں گے اور امریکہ میں رہنے والے احمدی امریکہ کی حکومت کے وفادار ہوں گے و علیٰ ہذا القیاسی " منشی محمد صادق صاحب کی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے ساتھ جو نیا دو منزلہ کرہ تعمیر ہوا تھا وہ پھٹ کر ایک طرف کو جھک گیا ہے۔اس کی ضروری مرقت ہونی چاہیے ورنہ گر کر مزید نقصان کا اندیشہ ہے۔یہ - ( بنام ملک صلاح الدین صاحب، ایم۔اسے قادیان) عزیز مرزہ امظفر احمد سیالکوٹ سے آئے ہوئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے ڈی جیسی گورداسپور کو فون کیا تھا اور ہمارے مکان کی جو سیکھوں نے گرا کر مکان گوردوارے میں شامل کر لیا ہوا ہے اس کے متعلق فون پر بات کی تھی۔ڈی سی صاحب گورداسپور نے کہا کہ میں نے حکم دے دیا ہوا ہے کہ اگر احمدی اپنی دیوار تعمیر کہ ائیں اور کوئی سیکھے مزاحم ہو تو اسے گرفتار کیا جائے۔مظفر نے کہا کہ موجودہ حالات اور موجودہ فضا میں بہتر یہ ہے کہ حکومت خود اپنے انتظام میں دیوار تعمیر کرا دے اور ہم سے خرچ لے لے۔ڈی سی فضا نے اتفاق کیا کہ ایسی ہے۔ایات جاری۔۔۔کر دیں گئے۔(۲۷ - دسمبر ) له ملک صلاح الدین صاحب تحریر فرماتے ہیں کچھ عرصہ بعد سردار املاک سنگھ مجسٹریٹ نے سکھوں کو بلا کرنا جائز قبضہ والا قصہ خالی کرلے اور ہمیں قبضہ کرنے کو کہا او سی روز کی مہلت ہمیں دی گئی غیر مسلم اس قصہ سے طلبہ اٹھانے میں تاخیر کرنا چاہتے تھے۔عبداللہ خاکسار کی تجویز کا میاب ہوئی کہ ہم خود مل کر طلبہ اس کی طرف ڈال کر درمیانی دیوار شام تک کھڑی کر دیں چنانچہ ایسا ہی ہوا یہ