تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 261
۲۹۱ حنط (گندم کے متعلق میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ ضرورت سے کچھ زائد رکھ کر باقی فروخت کر دی جائے مگر ایسی احتیاط کے ساتھ فروخت کی جائے کہ کسی قسم کا خطرہ یا نقصان کا اندیشہ نہ پیدا ہو۔یہ صورت آپ مقامی طور پر خود سوچ سکتے ہیں۔نشگل باغبانان (متصل قادیان- مرتب) کی احمدیہ مسجد کے جو مینارے گرائے گئے ہیں اور اس میں سکھ پناہ گزین رہتے ہیں اور اس کے اوپر کانگریس کا جھنڈا لگا دیا گیا ہے۔آپ اس کے متعلق مقامی پولیس اور علاقہ مجسٹریٹ اور ڈی سی کو لکھ کر توجہ دلائیں۔اس بات کا بھی پتہ لے کر رپورٹ کریں کہ ہماری قادیان والی مسجدیں اور عید گاہ کیس حال میں ہیں۔نمبر وار رپورٹ کریں موجودہ حالات میں انہیں پولیس کی موجودگی میں مقفل کر دینا چاہیئے اور گنجیاں اپنے پاس محفوظ رکھی جائیں " " ضیاء الاسلام پولیس کے متعلق انشاء اللہ یہاں ضروری کارروائی کی بجائے گی آپ بھی اس کے متعلق احتجاج کر میں لیے عبد اللطیف کے بھٹہ کی اینٹیں آپ بے شک وہاں سے اُٹھوا کو کچھ بہشتی مقبرہ میں اور کچھ مدرسہ احمدیہ کے صحن میں جمع کروالیں۔اس کا خرچ امانت سے برآمد کر لیں۔مقبرہ بہشتی کے ارد گرد جو چار دیواری بنائی جا رہی ہے اس میں صرف قبروں والا حقہ ہی شامل نہ کریں بلکہ قبروں کے ساتھ جو مقبرہ کی خرید کر دہ زمین ہے وہ بھی شامل کرلیں۔(۲۲ دسمبر ۱۹۳۷ مترم ۵- ابنام مولوی عبد الرحمن صاحب امیر مقامی قاریان ) " آج ملک صلاح الدین صاحب کا فون ملا جس میں یہ ذکر تھا کہ حضرت صاحب کا جلسہ سالانہ والا پیغام ابھی تک نہیں پہنچانے میں یہ پیغام تین نقلیں کروا کے ۲۳ دسمبر کو ہوائی ڈاک کے ذریعہ تین مختلف دوستوں کے نام بھیجوا چکا ہوں۔ایک آپ کے نام جو اصل ہے ے صدر انجمن احمدیہ نے بعد میں مکمل محکمانہ ثبوت نہ ہونے کے باعث دعونی ترک کر کے یہ پریس خرید لیا تھا کوتا اصحاب احمد عبداد دوم سه تاریخ احمدیت جلد علا علم و ص ۲۳ میں اس پیغام کا نتن سالانہ جلسہ قادیان کے کوائف کے تحت درج ہو چکا ہے :