تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 247 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 247

۲۴۷ مولوی غلام احمد صاحب نے پورے وقار اور نرم اور دھیمی آواز سے ان کی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا۔جب آپ وہاں سے واپس آنے لگے تو اس فقیہ نے آپ کے پیچھے لڑکے لگا دیئے جنہوں نے آپ کو پتھر مارے مگر مولوی صاحب ان کی طرف التفات کئے بغیر سید ھے چلتے گئے۔قبل ازیں بھی ایس مسجد والوں نے آپ سے یہی سلوک کیا تھا مخالفت کے اس ماحول میں آہستہ آہستہ ایک ایسا طبقہ بھی پیدا ہونے لگا جو مولوی صاحب کی باتوں کو غور سے سُنتا تھا۔خصوصاً عرب نوجوانوں میں حق کی جستجو کے لئے ڈسپی اور شوق بڑھنے لگا مگر چونکہ عرب کا یہ حصہ حریت مزاج آزاد منش اور اکثر بدوی لوگوں پر شتمل ہے اس لئے عام طور پر فضا بہت مخالفانہ رہی۔عمار اب تک مولوی غلام احمد صاحب مبشر ڈاکٹرمحمد احمد شیخ عثمان میں اور تبلیغ کا قیام صاحب کے یہاں مقیم تھے لیکن ماہ اضاء / اکتوبر اور اس کے عمدہ اثرات میں جماعت احمدیہ نے ۶۵ روپے ماہوار ۶۱۹۴۷ کرایہ پر ایک موزوں مکان حاصل کر لیا۔مولوی صاحب موصوف نے یہاں دار التبانی قائم کر کے اپنی تبلیغی سرگرمیوں کو پہلے سے زیادہ تیز کر دیا اور خصوصا نوجوانوں میں پیغام حق پھیلانے کی طرف خاص توجہ شروع کر دی کیونکہ زیادہ دلچسپی کا اظہار بھی انہی کی طرف سے ہونے لگا تھا۔عدن شیخ عثمان اور تو انہی کے علماء کو تبلیغی خطوط لکھے اور ان تک امام مہدی کے ظہور کی خوشخبری پنچائی علاوہ ازیں ایک عیسائی ڈاکٹر کو جو پہلے مسلمان تھا اور پھر مرتد ہو گیا ایک تبلیغی مکتوب کے ذریعہ دعوت اسلام دی۔مستقل دار التبلیغ کا ایک بھاری فائدہ یہ بھی ہوا کہ عوام سے براہ راست رابطہ اور تعلق پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا اور سعید الفطرت لوگ روزانہ بڑی کثرت سے دار التبلیغ میں جمع ہونے اور پیغام حق سنے لگے۔ا با و انها در اکتوبر بروز جمعہ المبارک عدن عبدالله محد شبوطی کی قبول احمدیت میں کی تاریخ میں بہت مبارک دن تھا جب ایک مینی عرب عبد الله محمد شبو علی جو ان دنوں شیخ عثمان میں بود و باش رکھتے تھے ساڑھے گیارہ بجے شب بیعت کا