تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 246
۲۴۶ سرکاری مخالفت انسپکٹر سی۔آئی۔ڈی نے مولوی غلام احمد صاحب کو بلایا اور وہ لڑ پر علماء کی مخالفت جو آپ نے تقسیم کیا تھا اس کی ایک ایک کاپی ان سے طلب کی نیز محکم دیا کہ آپ اپنا لٹریچر بازاروں میں تقسیم نہ کریں صرف اپنے گھر میں لوگوں کو ملا کر اور دعوت دے کر نیچر یا ٹریچر دے سکتے ہیں۔یہ واقعہ ما و از اکتوبر میں پیش آیا جس کے ڈیڑھ مہینہ بعد تھولک چرچ کے ایک پادری نے شکایت کر دی کہ مولوی صاحب پبلک لیکچر دیتے اور کیتھولک چرچ میں تقسیم کرتے ہیں۔ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس عدن نے مولوی صاحب موصوف کو تنبیہ کی کہ وہ آئندہ نہ کیتھولک چرچ میں کوئی لڑ پر تقسیم کریں نہ پبلک لیکچر دیں ورنہ انہیں گرفتار کریب جائے گا۔مولوی صاحب نے بتایا کہ پبلک لیکچر دینے کا الزام غلط ہے البتہ لٹریچر یکیں ضرور دیتا ہوں مگر صرف اسی طبقہ کو جو علمی دلچسپی رکھتا ہے۔مولوی صاحب نے اُن سے کہا کہ عیسائی مشنری تو کھلے بندوں دندناتے پھر رہے ہیں کیا انہیں چھٹی ہے اور صرف مجھ پر یہ پابندی ہے ؟ ڈپٹی سپرنٹنڈے پولیس نے جواب دیا کہ یہ پابندی آپ پر ہی عائد کی جا رہی ہے عیسائیوں پر اس کا اطلاق نہ ہو گا۔عیسائیوں کی انگیخت اور شرارت کے بعد ماہ ہجرت مئی میں بعض مقامی علماء نے بھی مخالفت کا کھلم کھلا آغاز کر دیا۔بات صرف یہ ہوئی کہ ایک مجلس مولود میں مولوی غلام احمد صاحب نے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ پر روشنی ڈالی اور ضمناً آپ کے فرزند جلیل سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی ذکر کیا جس پر دو علماء اور ان کے دو ساتھیوں نے آپ کو سٹیج سے اُتارنے کے لئے ہنگامہ برپا کہ دیا جلیس میں اٹھانوے فیصد شرفاء موجو دتھے جو خاموش رہے اور انہی کے ایماء پر مولانا نے اپنی تنقر رفتیم کر دی۔بعد ازاں شیخ عثمان کے ائمہ مساجد نے روزانہ نمازوں خصوصاً عشاء کے بعد لوگوں کو بھڑ کا نا شروع کیا کہ وہ احمدی مبلغ کی نہ کتابیں پڑھیں اور نہ باتیں سنیں کیونکہ وہ کا فروملتون ہے یہی نہیں انہوں نے پوشیدہ طور پر گورنمنٹ کو بھی احمد می مبلغ کے خلاف اکسانا شروع کر دیا۔ایک مرتبہ رستے میں مسجد کے ایک فقیہہ نے آپ کو بلند آواز سے پکارا اور آپ سے ایک کتاب یعنی استفتاء عربی مانگی جو آپ نے اسے دے دی۔کتاب لینے کے بعد اس نے پہلے سوالات شروع کر دیئے اور پھر اونچی آواز سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان مبارک میں سخت بد زبانی کی