تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 8 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 8

داخل ہو چکا تھا اور گال (CAUL) قوم سے معرکہ آزمائی ہو رہی تھی کی پر و فیسر فلپ کے بیتی۔اسمح بن مالک خولانی کی فتوحات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ کہ میں اس نے سب مانیہ ( SEPTIMANIA) اور اریونہ کو فتح کر لیا۔ادیونہ کی گڑھی کو بعد میں عربوں نے ایک بڑا قلعہ بنا دیا اور اس میں اسلحہ اور اناج کے گوداموں کے ساتھ ایک اسلحہ ساز کارخانہ بھی قائم کر دیا۔اسی سال اسمج نے ڈیوک اکو تانیا کے صدر مقام تولوز کو فتح کرنے کی کوشش کی اور میں جام شہادت نوش کیا یا فرانسیسی مولف، محقق ڈاکٹر ستاد ولی بان لکھتا ہے، آٹھویں صدی عیسوی میں جب عربوں نے فرانس پر حملہ کیا تو یہ ملک ان بادشاہوں کی حکومت میں تھا جو سلاطین کاہل الوجود کے نام سے شہور ہیں۔جاگیر داروں اور امراء کے مظالم سے حالت ابتر ہورہی تھی اور اسی لئے وہ بآسانی عربوں کے ہاتھ آگیا اور انہوں نے بلا کوشش بلیغ اکثر جنوبی شہروں پر قبضہ کر لیا۔پہلے انہوں نے لانگے ڈاک میں نازبان کے شہر کو فتح کیا اور سلے میں ایک تین کے پایہ تخت نورسی کا محاصرہ کیا مگر کامیاب نہ ہوئے۔اس کے بعد انہوں نے یکے بعد دیگرے کار کا سان، نیم کلیان - ماکان - اوتون وغیرہ کو فتح کیا اور دریائے رو آن صوبہ جات اور ڈائینے اور برکان کے صوبوں تک پہنچ گئے۔فرانس کا آدھا ملک دریائے تو آر کے کنارے سے فرانش کا نتے تک بتدریج عربوں کے قبضہ میں آگیا ہے رلکھتا ہے ہے کہ میں مارسیلز کے حاکم نے ان سے پرو وانس لے لیا اور انہوں نے آوں پر قبضہ کیا شہر میں وہ سینٹ ٹروپے میں موجود تھے اور دسویں صدی تک ان کا دخل پرو و انس پر رہا شه میں وہ و آلے اور سوئٹزرلینڈ تک پہنچ گئے تھے۔اور بعض مؤرخین کہتے ہیں کہ وہ پخش تک آگئے تھے پہلے علامہ شہاب الدین ابو العباس المقری کی کتاب نفح الطيب" سے معلوم ہوتا ہے کہ عساکر اسلامیہ امیر عبد الرحمن الاوسط بن الحکم اول کی زیر سر کردگی میں فرانس سے پیش قدمی کرتے ہوئے برطانیہ تک نیز ص 119 حق ے انسائیکلو پیڈیا برٹنیکا ENCYCLOPAEDIA RRITANICA ) زیر لفظ پین جلد ۲ ، پر وفیسر کے حتی کی تحقیق کے مطابق جبال ایران کو سب سے پہلے الحر بن عبد الرحمن انتفی نے شکر یا سائے میں عبور کیا تھا THE ARABSA ) کو عبدارحمن کلکٹر SHORT HISTORYS این جہان نے لکھا ہے کہ حضرت امیر المومنین سید ناعم بن عبد العزیز کے حکم سے قرطبہ میں ایک شاندار ای تعمیر کی گیا تھا اور آپ ہی کے فرمان شاہی سے قرطبہ دار السلطنت قرار پا یا نفح الطيب، مؤلفه علامه متری و ے عرب اور اسلام می دی عربی۔اسے شارٹ ہسٹری مترجم پروفیسر سید مبارزالدین صاحب رفعت ایم۔اسے محمد معین خان صاحب بی۔اے۔ناشر ندوۃ المصنفین۔دہلی : تمدن عرب (ترجمہ) ص ۳۸۵- از ڈاکٹر گستاولی بان ہے ته ايضا :