تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 225 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 225

۲۲۵ علیہ وسلم کی مقدس زندگی کا مختصر خاکہ اور دی ہوئی پرافٹ کے نام سے کتابیں نکلیں۔اس کے علاوہ احمدی میشن بور نیو کی طرف سے آج تک کوئی کتاب تصنیف کرکے شائع نہیں کی گئی۔انشائ کی ابتداء تک جاعت جماعت کی سرگرمیوں سے عیسائی حلقوں میں اضطراب کی تبلیغی سرگرمیوں کا رخ اور احمدیت کے خلاف عیسائی حکومت کی مخالفت آغاز زیادہ تر وہاں کی سلامی کیاری آبادی کی جانب تھا اس لئے حکومت بھی خاموش تھی مگر اس سال ڈاکٹر حافظ بدرالدین احمد صاحب کی کتاب احمدیہ موومنٹ ان اسلام شائع ہوئی جس میں محاسن اسلام کو بیان کر کے اسلام کے خلاف عیسائی اعتراضات کا رد کیا گیا تھا۔یورنیو کی گزشتہ تاریخ میں غالباً یہ سب سے پہلی کتاب تھی جو وہاں کے ایک پبلک پریس میں چھپی۔اس کتاب کی اشاعت سے عیسائی حلقوں میں ایک اضطراب اور غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔انگریزوں کے نو آبادیاتی نظام حکومت میں چونکہ مذہب اور حکومت ایک ہی چیز کے دو نام نہیں لہذا پادریوں کی غضب ناکی کا مطلب یہ تھا کہ عیسائی حکومت احمد یہ مشن کے خلاف سیخ پا ہو۔چنانچہ حکومت نے جماعت کی تبلیغی سرگرمیوں کو ختم کرنے کے لئے اپنی مہم کا آغاز کر دیا۔گویا حکومت کی پالیسی تھی کہ عیسائی پادری خواہ جس قدر اور جس طرح چاہیں اسلام کے خلاف زہر پھیلائیں لیکن اسلام کے نمائندوں کو یہ ستی نہیں کہ وہ اپنے دین کی پرامن صورت میں مدافعت بھی کر سکیں۔ایسی فضا میں تبلیغی جد و جہد کو جاری رکھنے کے لئے نہایت حزم واحتیاط کی ضرورت تھی یعنی ایسے رنگ میں کام کرنے کی ضرورت تھی کہ تبلیغ احمدیت بھی جاری رہے اور حکومت کے ساتھ براہ راست تصادم اور کراؤ کی نوبت بھی نہ آئے۔محتاط رویہ اختیار کرنے کی ضرورت اس وجہ سے اور بھی زیادہ بڑھ گئی کہ مرکز کی ہدایت پر ایک اور مجاہد یعنی مولوی محمد سعید صاحب انصاری سرو بابا سے دار نومبر ۱۹۴۹ء کو بور نیویشن میں تشریف لاچکے تھے اور مولوی محمد زہدی صاحب کے ساتھ بورنیو کے مختلف مقامات کا دورہ بھی کر چکے تھے۔عیسائی حکومت جو عیسائیت کے خلاف کوئی معمولی آواز اُٹھنا بھی گوارا نہ کرتی تھی جزیرہ میں بیک وقت اسلام کے دو مبلغوں کا وجود کیسے برداشت کر لیتی؟ انگریزی حکومت نے اس مرحلہ پر جو سلوک روا رکھا وہ حد درجہ افسوسناک تھا۔چنانچہ مولوی محمد سعید صاحب انصاری نے لابوان (LABLAN ) سے ایک رپورٹ میں لکھا :-