تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 221 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 221

۲۲۱ مانڈور یعقوب آپ کے قتل کا منصوبہ باندھ کے خنجر چھپائے ہوئے آپ کا تعاقب کرنے لگے مگر زہری صاحب ہمیشہ اُن سے محبت سے ملتے اور انہیں اپنے گھر آنے کی دعوت دیا کرتے تھے۔جوں جوں تبلیغی مساعی تیز تر ہوتی گئیں توں توں اسی شدت سے مخالفت بھی زور پکڑتی گئی مگر مبلغ احمدیت نے ان صبر آزما حالات کے باوجود اپنا کام بھی جاری رکھا اور نہایت باقاعدگی کے ساتھ حضرت مصلح موعود کی خدمت میں دعا کے لئے بھی لکھتے رہے۔اللہ تعالیٰ نے حضور کی دعاؤں کو غیر معمولی رنگ میں شرف قبولیت بخشا اور آخر کئی ماہ کی زیر دست مخالفت کے بعد مانڈور یعقوب کو خود بخود احمدیت سے پچسپی پیدا ہوگئی اور پھر تحقیق حق کے بعد وہ شہر میں داخل احمدیت ہو گئے اور اب تک سلسلہ احمدیہ سے بہایت مخلصانہ تعلق رکھتے ہوئے ہیں۔انڈور یعقوب کا بیان ہے کہ میں حیران ہو جاتا تھا کہ میں تو نہ ہدی صاحب کے قتل کی تدبیریں سوچتا ہوں اور موقعہ کی تاک میں رہتا ہوں اور یہ سادہ مزاج مولوی مجھے خود ہی اپنے گھر آنے کی دعوت دیتا ہے۔ان کے اس فراخ دلانہ سلوک نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا اور بالآخر مجھے پر صداقت کھل گئی اور پھر میں نے ان کے ہاتھ پر تو بہ کر کے قبول حق کرنے میں دیر نہیں کی۔مانڈور یعقوب صاحب کے علاوہ تہیں اس علاقہ میں اول نمبر پر صداقت احمدیت پر ایمان لانے کی توفیق ملی اُن کے ذریعہ دو اور دوست بھی سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے لیے ان سعید الفطرت روحوں کے آسمانی آواز پر لبیک کہنے کی دیر تھی کہ برطرف مخالفت کا ایک اور سیلاب امڈ آیا لیکن اس سیلاب نے احمدیت کی اشاعت کے حق میں کھاد کا کام یا اور جلد ہی دین اور افراد اسی گاؤں کنا روت میں احمدی ہو گئے۔لے اس عرصہ میں خدا کا یہ عجیب نشان بھی ظاہر ہوا کہ امام سوحیلی کو جس نے زہدی صاحب کی نسبت مخالفانہ اشتہار اور فتوی دیا تھا کسی جرم کی بناء پر ۲۴ گھنٹے کے اندر اندر برٹش نارتھے ہور نیو کی حد سے نکل جانے کا حکم دے دیا گیا۔زہدی صاحب اُس کو جہاز پر الوداع کہنے کے لئے گئے تو وہ آپ سے مصافحہ کرتے وقت بے اختیار رویا اور معافی مانگی۔سے زیدی صاحب نے مشن کے اس ابتدائی دور میں اجتماعی اور انفرادی تبلیغ کے ساتھ ساتھ تحریری رنگ میں بھی پیغام حق پہنچانے کی طرف توجہ دینی شروع کردی چنانچه مستعد و تبلیغی خطوط ط لکھے۔ایک 4 له الفضل ۲۳ نبوت / نومبر ۲۷ ص ن و سے الفضل در صلح جنوری هم مث به سے محترم زیدی صاحب کے خود نوشت غیر مطبوعہ حالات سے ماخوذ به