تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 218 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 218

۲۱۸ (SUKADANA) کی دعوت اس کے ساحلی علاقوں تک پہنچی اور سب سے اول بنجر ماسین کی سلطنت میں ریاست و الک کے باشندوں نے اسلام پھیلایا۔راہ میں جب اُندلس رسپین) کے لوگ اس کے شمال مغربی ساحل پر واقع شہر برونائی ( BRUNEI ) میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ اس کا بادشاہ مسلمان ہے اور رعایا میں سے بھی بہت سے لوگ اسلام قبول کر چکے ہیں۔عربوں نے نشہ میں بور نیو کے مغربی ساحل پر سکدانا کے شہر میں تبلیغ اسلام کی اور اکثر باشندوں کو مسلمان بنایا۔اُن کی تبلیغی کوششیں نشانہ تک بھاری رہیں جس کے نتیجہ میں سکرانا کے بیشتر حصے نے اسلام قبول کر لیا یہاں تک کہ شاید میں یہاں کا راجہ بھی مسلمان ہو گیا اور یہ اسلامی ریاست بن گئی۔ریاست سکدا نا میں جب اسلام کو فروغ ہوا تو شریف مکہ نے ایک عرب شیخ شمس الدین کو ایک شاہی خط دے کر بھجوایا جس میں والی ریاست کو سلطان محمد صفی الدین کا خطاب دیا۔اس بادشاہ نے نہ میں انتقال کیا۔یہ اس خاندان کا دوسرا بادشاہ تھا جو اسلام لایات بور نیومیں احمدیت کا بینچ کنانور (مالا بارم کے ایک مخلص تاجر جناب کے عبد القاد احمدیت کا نفوذ صاحب کے ذریعہ اسلام میں بویا گیا۔آپ اپنے ہمشیر زادہ کے محمد بھی (M۔KUNHI) کے ساتھ اس ملک میں کاروبار کے لئے تشریف لائے اور لابوان جزیرہ میں آکر آباد ہو گئے لیے شروع میں سلمانوں کی طرف سے آپ کی بہت مخالفت ہوئی حتی کہ ایک روز آپ کو دکان سمیت جلا دینے یا قتل کر دینے کی دھمکی دی گئی جس پر آپ نے حضرت امیر المومنین مصلح موعود کی خدمت میں دعا کے لئے تار دیا اور خود دکان کے اندر بیٹھ کر دعائیں کرنے لگے۔آپ کے ایک زیر تبلیغ دوست سلیم شاہ صاحب ضلع جون پور (یوپی) نے جو وہاں آپ بھی دودھ کا کاروبار کرتے ہیں اور ہر روز آپ کو دودھ سپلائی کرتے تھے دکان بند پا کر دستک دی اور دکان بند کرنے کی وجہ دریافت کی۔عبد القادر صاحب نے سارا حال بیان کیا تسلیم شاہ صاحب نے یہ سنتے ہی اپنے دودھ کے برتن دکان کے سامنے رکھ دیئے اور بازار میں اعلان کر دیا کہ میں بھی احمدی ہوتا ہوں جسے جرات ہو مجھ پر اور تو کئے عبد القادر پر حملہ کر کے دیکھ لے۔پھر عبد القادر صاحب سے بزور دکان کھلوائی اور جزیرہ لا ابو ان کے ہر تاریخ اشاعت اسلام صفحه ۵۴۰ - ۵۴۱ (مولفه مولا ناشیخ محمد اسمعیل صاحب پانی پتی، ناشر شیخ غلام علی اینڈ منتز پبلشرز لاہور له الفضل ۳۰ ظهور / اگست ه ۳۰ مت سے $1491 ١٩٦٢ 1401 سے وفات - صلح / جنوری جماعت احمدیہ لابو ان کے پریذیڈنٹ اور موصی تھے۔آپ کی تبلیغ سے بہت سے لوگ شامل احمدیک ہوئے۔بجامات کی ہر تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے (الفضل سور تبلیغ ضروری من میلا مٹ گئے اور نیویں دکاندار کو تو کے (سیٹھ) 71991 کے نام سے پکارتے ہیں ؟