تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 217 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 217

۲۱۷ روزیر اعظم نائیجیریا) مسٹر مین ( پریذیڈنٹ لائبیریا) ۹۔ورلڈ فیتے آن کانگریس نیدرلینڈ کے صدر ڈاکٹر ٹو کے ( DR۔BOEKE) * (DR۔BOEKE فصل ششم ان فیلم مشن اور زیو کا قیام بور نیو دنیا کا ایک بہت بڑا جزیرہ ہے جس کے تین چوتھائی حصہ پر ماضی قریب میں ولندیزی قاضی تھے اور باقی حصہ انگریزوں کے تسلط میں تھا۔متقدم الذکر حصہ اب انڈو نیشین حکومت کے ماتحت ہے اور کالی منتن (KALIMANTAN ) کہلاتا ہے۔مؤخر الذکر حصہ عرصہ تک برٹش بورنیو سے یاد کیا جاتا رہا اور مندرجہ ذیل دو کو آبادیوں اور ایک ریاست پر مشتمل تھا :- ا پسر اوک کالونی ۲ برٹش کراؤں نارتھے ہور نیو کالونی ۳۔ریاست برونائی۔برٹش کراؤن نارتھ بورنیو کا لونی کو اسر اگست سلام سے ایک آزاد مملکت کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے اور اب اسے باہ (SABAH ) کے نام سے موسوم کیا جانے لگا ہے جو ار ستمبر رائے سے ملیشیا فیڈریشن کا حصہ ہے لیے ریاست برونائی ایک مسلمان ریاست ہے۔تاریخ اشاعتِ اسلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جزیرہ میں مولوں کا قدم تیرھویں صدی عیسوی سے قبل پڑا۔ابتداء میں اسلام ہ ملیشیا فیڈریشن کے محرک تنکو عبدالرحمن صاحب (سابق وزیر اعظم بلایا) تھے جنہوں نے یہ تحریک اہ میں پیش کی فیڈریشن میں ملایا کی گیارہ ریاستوں کے علاوہ اس اوک اور سہا بھی شامل ہیں جو جزیرہ بو زیر کا دمہ میں سالہ کی موجودہ واحد سیاسی اور برسر اقتدار پارٹی۔۔۔ما ہے یہ جا کے مشہور شہروں کے نام یہ میں کوتا کینابالو بیلیٹی سنڈا کن تواؤ۔لامحدود تو سمپورنا۔ایوان گینگاؤ بیفرٹ۔راناؤ تواری۔قریب تازہ اعداد و شمار کے مطابق نیاء کی آبادی ۶۱۴۴۸ نفوس پر مشتمل ہے۔کد ازن قوم (KADA ZAH ) کل آبادی کا ایک تازہ تہائی حصہ ہے اور اس کی اکثریت شرکی ہے۔اس کے علاوہ ملائی چینی، باجاؤ، مورت ، یورپین، پاکستانی اور انڈین لوگ بھی آباد ہیں۔پاکستانی، طلائی اور باجاؤ سب کے سب اور کوازن اور انڈین لوگوں میں سے بھی بعض مسلمان ہیں۔عیسائی بھی بھاری تعداد میں پائے جاتے ہیں۔بہندو، سکھ اور بدھ بھی موجود ہیں ؟