تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 210
۲۱۰ چا کر ارسال کر سکتا ہوں چنانچہ آپ نے سعودی عرب پہنچ کر قریباً ایک سو جلدیں بذریعہ ہوائی جہاز بھجوائیں جو تفسیر طبری ، جامع الاصول فی احادیث الرسول، صحیح ابن حیان، اور دیگر چھوٹی چھوٹی مختلف کتابوں پرمشتمل ہیں۔اس موقع پر محترم و مکرم جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب بالقابہ بھی با وجود انتہائی مصروفیات کے تشریف لائے ہوئے تھے شہزادہ فہد الفیصل آپ سے مل کر بہت خوش ہوئے اور آپ کی اُن خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے جو آپ نے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے سر انجام دیں۔اپنے پر خلوص اور تشکر انہ جذبات کا اظہار کیا۔پرنس موصوف کی معیت میں ان کے سیکرٹری اور مشیر خاص کے علاوہ جرمن سعودی عرب ایمبیسی کے نمائندہ ، ڈچ براڈ کاسٹ برائے عرب ممالک کے انچارج اور جمہوریہ عرب کی ایمبیسی کا نمائندہ بھی موجود تھے۔اے حافظ قدرت اللہ صاحب کا بیان ہے کہ ایک عید ہی کا واقعہ ہے کہ سعودی عرب کے ایک دوست عید کہ نماز کے لئے تشریف لائے تو ان کی آنکھیں یہ دیکھ کر خوش کن تعجب سے کھلی کی کھلی رہ گئیں که یورپین لوگ نمازیں پڑھتے ہیں، قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں اور اسلام کی اشاعت کے لئے ہردم کمر بستہ ہیں چنانچہ انہوں نے جب یہ نظارہ دیکھا تو بھری مجلس میں پکار اٹھے کہ آج ایک دفعہ پھر میں اسلام کا سورج مغرب کی وادیوں سے طلوع ہوتے دیکھ رہا ہوں " سے ماه اگست شائر میں نائیجیریا کے ایک مسلمان وزیر الحاج آڈگ بنرو (D۔S۔ADES BENRO) ۱۹۵۹ کو احمدیہ کا مشن ہالینڈ کی سرگرمیاں بخشم خود دیکھنے کا اتفاق ہوا، چنانچہ آپ نے مشن کی طرف سے دی گئی ایک استقبالیہ دعوت میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا :- اس سفر کے دوران جو مواقع مجھے ملے ان سب میں سے آج کے واقعہ کو ئیں سب سے بڑا اور اہم تصور کرتا ہوں بلکہ اس واقعہ نے میرے یہاں کے پروگرام کے اختتام کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔مجھے مسرت ہے کہ میں جب واپس جاؤں گا تو آج کی بہترین یاد کو بھی اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔جن ممتاز شخصیتوں سے ملنے کا موقع مجھے آج ملا ہے لیکن اس کے لئے اپنے 14-12 له الفضل در شهادت را اپریل ه م سه رساله خالد ربوه امان مارچ مات ۱۹ به ده میری 11909 71474