تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 207
۲۰۷ (۱۴) اخبار دی نور دستر" (DIE NIORDESTER ) نے لکھا کہ :- یہ پاکستانی مشنری یعنی امام مسجد ہالینڈ ان بہت سے پاکستانی مشنریوں میں سے ایک ہیں جو جماعت احمدیہ کی طرف سے دنیا کے مختلف ممالک میں اسلام کی تبلیغ اور اسلام کے متعلق صحیح نظریہ لوگوں تک پہنچانے کے لئے بھیجے جاتے ہیں مسلمانوں میں میں ایک منظم جماعت ہے میں نے ایک نظام کے ماتحت تبلیغ اسلام کا بیڑا اٹھایا ہے مسجد کے ہال میں جو دنیا کا نقشہ لٹکا ہوا ہے اس پر ایک نگاہ ڈالنے سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ کس طرح دنیا کے تمام اطراف میں جماعت احمدیہ کے مبلغ سرگرم عمل ہیں " سے 1 (۱۵) پاکستان کا روز نامہ مغربی پاکستان ۱۲ مارچ ۱۹ کی اشاعت میں لکھتا ہے۔" ہالینڈ سے شائع ہونے والا ایک کثیر الاشاعت روزنامہ ڈیلی روٹرڈم مراپنی قریبی اشاعت میں رقمطراز ہے کہ یورپ، ایشیا اور دنیا بھر میں عیسائی مشنری اداروں کو جماعت احمدیہ کے مبلغین کی اعلیٰ تعلیم اور بھر پور نشر و اشاعت کے سامنے کا فی حقیقت اُٹھانی پڑ رہی ہے۔اخبار لکھتا ہے کہ جب سے جماعت احمدیہ کے مبلغین نے ہند و پاکستان سے نکل کر یورپ کا رخ کیا ہے اُس وقت سے عیسائی مشنری لوگ ان کا کہیں بھی ڈٹ کر مقابلہ نہیں کر سکے۔اور یہ کتنے دکھ کا مقام ہے کہ بڑے بڑے پادری تک ان کی دعوت مناظرہ قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔اخبارہ آگے چلا کر لکھتا ہے کہ جہاں اسلام یا احمدیت کا نام تک رگوں نے نہیں سنا تھا اور جہاں عیسائی مشنری اپنی مرضی کے عین مطابق کام کرتے تھے وہاں اب عیسائیت سے ان کی نفرت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ آب وہی لوگ اس کا نام تک سننا گوارا نہیں کرتے ہیں ڈیلی روٹر ڈم پرانے لکھا ہے کہ احمدیہ جماعت کے لوگ لاکھوں میل دور سے آکر عیسائیت کا مقابلہ کر رہے ہیں اور وہ لوگ اپنے وطن سے دور اپنے دوست احباب اور اہل و عیال سے دور رہ کر نہایت ہی کٹھن مراحل سے دوچار ہوتے ہوئے بھی اپنے مذہب کا سے بحوالہ جماعت احمدیہ کا تبلیغی نظام اور اس کے نتائج " صدام تا حمام لیکچر صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب بر موقع جلسہ سالانہ ۱۹۶۳