تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 208 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 208

۲۰۸ پراپیگنڈا کرتے ہیں لیکن ہمارے پادری اور مشتری ادارے جنہیں حکومتوں کی سرپرستی تک حاصل ہے وہ اپنے فرائض سے کوتاہی برت رہے ہیں۔" اخبار مغربی پاکستان کے ایک شہر ربوہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ مسلمانوں کے ترقی یافتہ گر وہ جماعت احمدیہ کے لئے جنوری کا مہینہ خاص اہمیت کا حامل ہے جبکہ یہ جماعت اپنے نئے امام مرزا ناصر احمد صاحب کی قیادت میں جمع ہوئی ہے تاکہ ساری دنیا میں ایک نئے عزم کے ساتھ اپنی تبلیغ جاری رکھ سکے اس کے سالانہ اجتماع پر لاکھوں مسلمان اپنے امام کے خطاب کو سننے کے لئے جمع ہوتے ہیں جن کا کہنا ہے کہ خدا ان سے کلام کرتا ہے۔۔۔اس جماعت کی بنیا د موجودہ امام کے دادا نے رکھی تھی جن کا دعویٰ تھا کہ خدا نے خود اُن سے کلام کیا۔وہ اپنے اس دعوی کے بعد پوری طرح اپنے کام میں سرگرم عمل ہو گئے مگر اس کی وجہ سے دوسرے مسلمانوں سے ان کے اختلاف بڑھ گئے۔عوام نے ان کے دعوئی کو ماننے سے انکار کر دیا کیونکہ ان کے نزدیک محمدؐ ( رسول اللہ آخری نبی ہیں مگر عوام کی مخالفت انہیں اپنے مشن کی تبلیغ سے باز نہ رکھ سکی۔چنانچہ یہ جماعت آب بہت سے ممالک میں اپنے قدم مضبوطی سے جما چکی ہے۔اخبار لکھتا ہے کہ موجودہ خلیفہ کی عمر ۵ سال ہے اور وہ آکسفورڈ یونیورسٹی آف لندن کے فارغ التحصیل ہیں۔اگر چہ وہ بظاہر کوئی صوفی منش نظر نہیں آتے لیکن ان کا اکثر وقت دینی امور کی انجام دہی اور عوام کی خدمت اور عبادت گزاری ہی میں صرف ہوتا ہے اور بہت ہی سادہ غذا پر بسر اوقات کرتے ہیں۔قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق وہ چار بیویاں رکھ سکتے ہیں مگہ اس کے باوجود وہ اپنی پہلی بیوی سے ہی وفاداری کا اظہار کئے ہوئے ہیں۔نہیں الہام ہوا ہے کہ ان کی جماعت ساری دنیا کو اسلام کی روشنی سے منور کر دے گی۔خاتا کے ملک میں اس جماعت کو بہت کامیابی حاصل ہوئی ہے خصوصاً اُن لوگوں میں جو مشرک ہیں اور سیرالیون میں اس جماعت کی کوششوں کا ہی اثر ہے کہ وہ لوگ جو عیسائیت سے وابستہ ہوتے تھے اب اپنے مذہب سے برگشتہ ہو رہے ہیں۔انڈونیشیا اور نائیجیریا میں ان کی جماعت میں شامل ہونے والے اکثر لوگ پہلے عیسائی تھے۔