تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 204
۲۰۴ ایک سابق رومن کیتھولک نوجوان کا مضمون (اسلامی تعلیم کے اس پہلو پر نمایاں طور پر روشنی ڈالتا ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔لفظ مسلم کے حقیقی معنوں میں۔ہم نے اس چیز کو حاصل کر لیا ہے جیسے قرآن پاک ہماری زندگی کا مقصد قرار دیتا ہے۔" مسٹر حافظ اور ان کے اسسٹنٹ ہمارے ملک میں اتنا کام نہ کر سکتے اگر ان کو دوسر نے سلمانوں کا تعاون حاصل نہ ہوتا لیکن یہ امر واضح ہے کہ یہاں کے مسلمان (حضرت محمد (صل اللہ علیہ ولیم کی تعلیم کے پر جوش اور سرگرم پر وہیں مسٹر حافظ کہتے ہیں ہرمسلمان کو چاہیے کہ اپنے تئیں ایک مشنری سمجھے اور وہ چیز جو ان کے اور عیسائیت کے درمیان ایک بندھن کا رنگ رکھتی ہے یہ ہے کہ دونوں مذاہب لا تذہب کمیونزم کو نا پسند کرتے ہیں۔مسٹر حافظ کہتے ہیں مشتری سرگرمیوں کے طفیل ہماری جماعت میں شامل ہونے والوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے" قدیم اسلامی اخوت جو حضرت محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم) کے زمانے میں پائی جاتی تھی اب دوبارہ زندہ ہو رہی ہے۔" اس مہینے میں ہم سب مسلمان پھر رسول خدا حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی یاد کو تازہ کریں گے یا آپ کے یوم پیدائش کی تقریب ۲۳ اگست کو اسی مسجد میں منائی جا رہی ہے۔اس مسجد کی چھتوں پر ٹر حافظ چند مینا رے بنوانا چاہتے ہیں۔یہ کام غالباً مستقبل قریب میں ہی ہو جائے گا تب یہ اسلامی عبادت گاہ بڑی آسانی سے پہچانی جائے گی یہ ماہ (ترجمہ) (۷) ایمسٹرڈم کا ایک مشہور کثیر الاشاعت روزنامه همیت پارول HET PAROOL اپنی ۳۔مارچ 199 ء کی اشاعت میں لکھتا ہے عیسائیت کو چیلنج " " مشرقی مذاہب کی پیش قدمی۔اس " تین کالم کی موٹی سرخی کے بعد ایک لیے مضمون کے تسلسل میں یہ اخبار لکھتا ہے کہ یوروپ میں احمد پیشن پوری طاقت کے ساتھ تبلیغ میں مصروف ہے۔یہ تحریک گزشتہ صدی کے آخر میں اُٹھی تھی۔اب ہمارے ملک میں ہیگ شہر میں اس مشن کی ایک مسجد ہے۔اس کے علاوہ بعض اور یورپین ممالک مثلاً جر منی میں ان کی تین مساجد ہیں۔اس طریق سے پیشن اپنی تبلیغ کے لئے راستے ہموار کر رہا ہے یا سے (ترجمہ) (۸) ایمسٹرڈم کا ایک اور مشہور روزنامہ بہیت فرائے فولک (HET VRISE VOLK) اپنی له الفضل ۱۹ را خاد/ اکتوبر هنا ه ۲ الفضل ، ار شهادت / اپریل همه جنگ کاظم علیہ