تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 203 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 203

۲۰۳ نیدر لینڈ پر اب ہلال طلوع ہو گا یا ہم مسٹر حافظ منا کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ ان کی آمد سے ہم با نکل خوش نہیں یہ سرد مہری سے استقبال کئے جانے والے مسلمان نے بڑی محبت کے ساتھ جواب دیا "ہم تو یا ہم رواداری اور اخوت کی تبلیغ کرتے ہیں۔یہ اخبار کل و ٹیسٹ (CALVINIST ) کے لب ولہجہ سے بظاہر سٹر حافظ نے ہمت نہ ہاری مسٹر حافظ نے کہا " لیکن یہاں کام کرنا پسند کرتا ہوں اور یکن یہاں اپنے ملک سے بھی زیادہ مانوسیت محسوس کرتا ہوں “ انہوں نے عیسائی مشنریوں سے جن میں کچھ پادری بھی ہیں خوشگوار تعلقات قائم کر رکھتے ہیں۔وہ رومن کیتھولکس سے بہت ہمدردی رکھتے ہیں کیونکہ وہ مذہب کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا بجانتے ہیں۔یہ حبیب بات ہے کہ اسلام کے متعلق پیر ٹسٹنٹ عیسائیوں کے مقابلہ میں کیتھولک عیسائیوں میں زیادہ دلچسپی پائی جاتی ہے۔ڈچ نو مسلموں میں سے زیادہ تر پہلے رومن کیتھولک فرقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ان کے علاوہ نیدرلینڈ میں تقریباً ایک ہزار مسلمان ہیں جن میں طلباء بھی ہیں۔انڈونیشیا اور ڈچ گی آنا کے مسلمان بھی ہیں اور مسلمان ممالک کے سفارت خانوں کے کارکنان بھی شامل ہیں بہت سے ڈچ نو مسلموں کا پہلے افریقہ سے یا مشرق سے کوئی نہ کوئی تعلق رہا ہے۔ایک وچ نو مسلم کو جو پہلے رومن کیتھولک تھا اپنے تجربات کے متعلق کچھ بتانے کے لئے کہا گیا تو وہ کہنے لگے " ایک نوجوان کی حیثیت سے یکی زیادہ دیر رومن کیتھولک عقیدہ پر ایمان نہ رکھ سکا۔اسلام سے متعلق ایک کتاب میرے ہاتھ لگی اور یکن نے مسٹر حافظ سے راہ و رسم پیدا کی۔بیگفت گو آسان نہ تھی کیونکہ جو کچھ آپ کو گھر سے ملا ہے اس سے آپ آسانی سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے مسلمان ہو کر آپ کو میرا گندہ حالات میں سے گزرنا پڑتا ہے اور خاندان میں آپ کی حیثیت کالی بھیڑ کی سی ہو جاتی ہے۔میرے والد مجھے ایک پادری کے پاس لے گئے کہ میں اس سے گفتگو کروں میں نے ایسا ہی کیا مگر یہ امر میری نظر انتخاب کو نہ بدل سکا ماہنامہ الاسلام ڈچ زبان میں جو احمدی سلام میشن بیگ سے شائع ہوتا ہے اس میں