تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 198
ابتداء سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتیں مگر اپنی نوعیت کے اعتبار سے یقینا غیر معمولی ہیں۔اس حقیقت کا کسی قدر اندازه ولندیزی پولیس خصوصا چرچ کے اخبارات و جرائد سے کیا جا سکتا ہے۔اس ضمن میں بطور مثال صرف چند تحریرات ملاحظہ ہوں۔(1) ایک روز نا ملائیے سے گرنت (EDESCHE COURANT) اپنی 11 اکتوبر شاہ کی اشاعت میں ہالینڈ کے لوگوں کو بڑے واضح رنگ میں متنبہ کر تا ہوا انکھتا ہے کہ اسلام کے بڑھتے ہوئے نفوذ کو اور احمد ڈیشن کی سرگرمیوں کو معمولی خیال نہ کریں۔اس سنکے بعد لکھتا ہے کہ جماعت احمدیہ محمد صلے اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے لئے بہت روشن مستقبل کے خواب دیکھ رہی ہے اور خاص طور پر یورپ یلی یہ پھر لکھا ہے آرہ جب تک یورپ پھر سے ایک دفعہ پورے طور پر متحد ہو کر مسلمانوں کے متحدہ محاذ کا جس میں جماعت احمد یہ سب سے زیادہ قویتہ والی مشینری ہے ڈٹ کر مقابلہ نہ کرے اس وقت تک یہ سیلاب رکھنے والا نہیں ہے (۲) ہینگ کے ایک کثیر الانشاء سے اخبار نیو ہا گئے کرنت (N۔H۔COURANT ) اپنی ۲۰۔ستمبر شہد کی اشاعت میں زیر عنوان مغربی یورپ میں اسلامی مہم کا آغاز لکھا :- گزشتہ ۱۱ ، ۱۲ سال کے عرصہ میں یورپ نے کسی بڑی تعداد میں اسلام کو عملاً قبول نہیں کیا مگر یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ اس عرصہ میں جماعت احمدیہ کی کوششوں سے ایک بھاری تعداد اسلام سے ہمدردی رکھنے والوں کی ضرور پیدا ہوگئی ہے۔کا اسی طرح ہالینڈ مشن کے مختلف اخبارات نے ایک دفعہ اسلامی ہلال یورپ کے اُفق پر کے موضوع پر اس خیال کا اظہار کیا کہ۔یورپ کا نوجوان طبقہ عیسائیت سے کچھ بیزار ہو رہا ہے اور اس کے نتیجہ میں وہ کسی بھی دوسری چیز کو قبول کرنے کے لئے آمادہ ہو جاتا ہے۔دوسری طرف اسلام یوری میں اتحاد کا علم لئے ہوئے ہے اور یہ نوجوان طبقہ اور بائل ہو رہا ہے۔اس بہاؤ کو رکنے کے لئے بس کا سب سے طاقت ور انجن جماعت احمدیہ ہے ان کی راہ میں ایک ستون گاڑنا ہو گا " سے له الفضل، از شهادت / اپریل ان کالم را به سه بخواله رساله خالد ربود ایمان کرماریچه ها تارا 7149⑈ 41494